
خلیج اردو
دبئی کے ولی عہد شیخ حمدان بن محمد نے پیٹرولیم مصنوعات کی تجارت سے متعلق ضابطوں کے لیے نیا ریزولیوشن جاری کر دیا ہے، جس کا مقصد غیر قانونی تجارت کی روک تھام، معاشی و ماحولیاتی تحفظ کو مضبوط بنانا اور عوامی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔
نئے ضابطے کے تحت پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد، تیاری، ذخیرہ، ترسیل، فروخت اور سپلائی کے لیے عالمی معیار کے مطابق جامع رہنما اصول وضع کیے گئے ہیں۔ تمام کاروباری اداروں کو ان ہی قواعد کے تحت کام کرنا ہوگا، جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں جرمانے دگنے ہوں گے، جو زیادہ سے زیادہ 10 لاکھ درہم تک جا سکتے ہیں۔
ضابطے کے مطابق دبئی میں کوئی بھی شخص یا ادارہ اتھارٹی سے اجازت کے بغیر پیٹرولیم مصنوعات کی تجارت نہیں کر سکے گا۔ پیٹرولیم کا ذریعہ تصدیق شدہ ہونا چاہیے اور دستاویزات جمع کرانا لازمی ہوگا تاکہ یہ ثابت ہو سکے کہ مصنوعات کونسل سے منظور شدہ کمپنی سے حاصل کی گئی ہیں۔
اداروں کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ وزارت توانائی و انفراسٹرکچر کے پیٹرولیم ٹریڈنگ رجسٹر میں اندراج کریں، قیمتیں واضح طور پر ظاہر کریں، ذخیرہ اور ترسیل کے تکنیکی و حفاظتی اصولوں پر مکمل عمل کریں اور کسی بھی حادثے کی اطلاع 24 گھنٹے کے اندر دیں۔
سپریم کونسل آف انرجی کے اختیارات میں اجازت نامے منسوخ کرنا، سہولیات کو چھ ماہ تک بند کرنا، لائسنس کی منسوخی، اور غیر قانونی پیٹرولیم مواد یا گاڑیوں کی ضبطی، تلفی یا ری ایکسپورٹ شامل ہیں۔ خلاف ورزی کرنے والے کو نقصان پورا کرنے اور اصل حالت بحال کرنے کی ذمہ داری بھی اسی پر عائد ہوگی، اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں کونسل یہ کام خود کر کے 25 فیصد اضافی انتظامی اخراجات وصول کرے گی۔
ریگولیشن کے تحت کونسل دبئی میں پیٹرولیم مصنوعات کی تجارت کی نگرانی کرے گی، اسٹیشنوں کی تعداد و مقامات کا تعین کرے گی، ٹرانسپورٹ وہیکلز اور اسٹوریج کے معیارات طے کرے گی اور وہ علاقے بھی متعین کرے گی جہاں پیٹرولیم مصنوعات کی تجارت ممنوع ہوگی۔
موجودہ تمام اداروں کو ایک سال کے اندر نئے قواعد کے مطابق خود کو ہم آہنگ کرنا ہوگا، جس میں ایک سال کی اضافی مہلت بھی چیئرمین کی منظوری سے دی جا سکتی ہے۔







