متحدہ عرب امارات

چاندی کی قیمت میں اضافہ، یو اے ای سرمایہ کاروں کا ہزاروں درہم منافع

دبئی
متحدہ عرب امارات میں سرمایہ کاروں نے چاندی میں سرمایہ کاری سے زبردست منافع حاصل کیا، جو سونا کے مقابلے میں سستا مگر تیزی سے منافع بخش ثابت ہو رہا ہے۔

دبئی کے بزنس مین اور تاجر اشرف ملک نے بتایا کہ وہ کئی سال سے سونا میں سرمایہ کاری کر رہے تھے لیکن اس بار انہوں نے کچھ نیا آزمایا — چاندی میں سرمایہ کاری۔ یکم ستمبر کو اشرف ملک نے دو کلوگرام چاندی فی کلوگرام تقریباً 4807 درہم کے حساب سے خریدی، جس پر ان کا کل خرچ 9614 درہم ہوا۔

محض چھ ہفتوں بعد، 20 اکتوبر کو چاندی کی قیمت بڑھ کر 6192 درہم فی کلوگرام تک جا پہنچی۔ اشرف ملک نے یہ سرمایہ فروخت کر کے 12,384 درہم حاصل کیے، یوں صرف ڈیڑھ ماہ میں 2770 درہم یعنی تقریباً 30 فیصد منافع کما لیا۔

اشرف ملک کے مطابق، "میں نے اتنی تیزی سے اضافہ ہونے کی توقع نہیں کی تھی۔ میں طویل مدت کے لیے رکھنے کا سوچ رہا تھا مگر قیمتوں میں تیزی دیکھ کر فروخت کا فیصلہ کیا۔ یہ بہت بڑی سرمایہ کاری نہیں تھی لیکن منافع کافی حوصلہ افزا ہے۔”

13 اکتوبر کو خلیج ٹائمز نے رپورٹ کیا تھا کہ رواں سال چاندی کی قیمتوں نے سونا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان آئندہ مہینوں میں بھی برقرار رہ سکتا ہے۔ سونا گزشتہ سال کے آخر میں 2659 ڈالر فی اونس سے بڑھ کر اکتوبر میں 4017 ڈالر تک پہنچا — یعنی 52 فیصد اضافہ۔ تاہم، چاندی 28.78 ڈالر فی اونس سے بڑھ کر 50 ڈالر فی اونس تک جا پہنچی، جو 73 فیصد سے زائد اضافہ ہے۔

چاندی کی نسبتاً کم قیمت اور اس کے بڑھتے ہوئے صنعتی استعمال نے متحدہ عرب امارات میں چھوٹے اور بڑے دونوں سرمایہ کاروں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔

ریٹیل تاجروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند مہینوں میں چاندی کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ جیول ٹریڈنگ کے سینئر مینیجر چنتن پاتنی کے مطابق، "حالیہ دنوں میں قیمتوں میں مسلسل اضافے کے ساتھ چاندی خریدنے والوں کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے۔ دیوالی کے دوران طلب اتنی زیادہ تھی کہ مارکیٹ میں عارضی قلت پیدا ہوگئی۔”

ملابار گولڈ اینڈ ڈائمنڈز کے ریٹیل ہیڈ ویویک جے نے کہا، "چاندی میں سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے، بہت سے سرمایہ کار اب اسے محفوظ متبادل کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ سونا کی طلب برقرار ہے، مگر چاندی ان کے لیے پرکشش آپشن بن گئی ہے جو چھوٹی سرمایہ کاری یا متنوع پورٹ فولیو چاہتے ہیں۔ آئندہ پانچ سالوں میں چاندی میں سرمایہ لگانے والے اچھے منافع کی توقع رکھ سکتے ہیں۔”

چنتن پاتنی کے مطابق، "ایک وقت میں چاندی صرف زیورات میں استعمال ہوتی تھی، مگر اب یہ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، سولر پینلز اور الیکٹرانک آلات میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ استعمال بڑھ رہا ہے لیکن سپلائی محدود ہے، اسی لیے قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔”

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ سونا اور چاندی دونوں تاریخی طور پر بڑھتے رہے ہیں، مگر اس سال چاندی کی شرحِ اضافہ نمایاں طور پر زیادہ رہی ہے، جو آئندہ بھی سرمایہ کاروں کے لیے نفع بخش ثابت ہوسکتی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button