
خلیج اردو
17 فروری 2021
دبئی : دبئی ہیلتھ اتھارٹی نے اس حوالے سے وضاحت کی ہے کہ کورونا وائرس سے متعلق ویکسین کن لوگوں کو لگائی جا سکتی ہے۔ موجود وقت میں دبئی ہیلتھ اتھارٹی نے وضاحت کی ہے 4 طرح کے لوگ ویکسین لگوانے کے اہل ہیں۔
دبئی ہیلتھ اتھارٹی میں محکمہ صحت اور تعلیم کی سربراہ ڈاکٹر ہند الوادہی کا کہنا ہے کہ کہ ڈی ایچ اے مسلسل 3 ویکسین طرح کے ویکسین پر فوکس کررہی ہے اور اس حوالے سے مندرجہ ذیل میں دیئے گئے افراد کو یہ ویکسین لگوائی جا سکتی ہے۔
ان افراد کے پاس متحدہ عرب امارات کی شہریت ہونی چاہیئے۔ وہ فرنٹ لائن یا اہم شعبے کا ملازم ہو ، خصوصی افراد اور 60 سال سے زائد عمر کے افراد جنہیں مہلک بیماریاں لاحق ہوں ، وہ ویکسین لگوانے کیلئے اہل ہیں۔
عمر کے لحاظ سے تین طرح کے ویکسین کی مندرجہ ذیل طرح سے درجہ بندی کی گئی ہے۔
سینوفارم ویکسین ان افراد کیلئے ہے جن کی عمر 16 سال یا اس سے زیادہ ہے۔
فائزر بائیوٹیک ویکسین ۔ ان افراد کیلئے جن کی عمر 18 سال یا اس سے زیادہ ہے۔
اوکس فورڈ ۔۔ایسڑازینیکا ۔۔ ان افراد کیلئے جن کی عمر 18 سال اور 60 سال کے درمیان ہے۔
خواتین کیلئے خصوصی نوٹ :
ڈاکڑ الوادھی نے بتایا کہ وہ خواتین جو ویکسین حاصل کرنا چاہتے ہوں ، ان کیلئے ضروری ہے کہ وہ حاملہ نہ ہوں ، وہ بچوں کو اپنا دودھ پلانی والی نہ ہو ، انہوں نے اگلے تین مہینوں میں حاملہ ہونے کا پروگرام نہ ہو ، ۔
الوادھی نے کہا کہ ویکسین لگوانے کا ارادہ رکھنے والے ہر شہری کیلئے ضروری ہے کہ وہ مندرجہ ذیل لوازمات کا خیال رکھیں۔
ان لوگوں نے کوئی دوسری کورونا ویکسین نہ لگائی ہو، اس کی پہلی خوراک یا دوسری سے ہٹ کر۔
ان افراد کو الرجی نہ ہو یا انہیں کسی بھی ویکسین کیلئے ہائیپرسنسیٹیویٹی نہ ہو، انہوں نے گزشتہ دو ہفتوں میں کوئی ویکسین نہ لی ہو۔
ڈاکٹر الوادھی نے ان تمام سوالات اور شکوک و شبہات کا ذکر کیا ہے جو لوگوں کے ذہن میں ہیں یا لوگوں نے پوچھے ہیں۔
سوال : کیا کورونا کی دونوں خوراکیں لینے کے بعد بھی مجھے احتیاط کی ضرورت ہے؟
جواب : جی بالکل ہر کسی کو احتیاط کی ضرورت ہے اور چونکہ ویکسین آپ کے جسم میں بیماری سے لڑنے کی قوت پیدا کرتی ہے لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ کورونا وائرس آپ پر حملہ کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ آپ کو فیس ماسک پہننا چاہیئے ، سماجی فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے ہاتھوں کو باقاعدگی سے دھونا چاہیئے۔ جب تک ہم ہرڈ ایمونٹی کی طرف نہیں جاتے جو کہ تمام لوگوں کیلئے ویکسین لگوا کر ان کی قوت مدافعت کو بڑھایا جاتا ہے ، ہرڈ ایمونٹی تک احتیاط لازمی ہے۔
میں ابھی کورونا وائرس سے صحت یاب ہوا ہوں ، کیا مجھے کورونا ویکسن لگوانی چاہیئے؟
ڈاکٹر الوادھی نے وضاحت کی ہے کہ ریسرچ سے پتہ چلا ہے کہ وہ افراد جو کورونا وائرس سے متائثر ہوئے ہوں ، انہیں قدرتی طور پر قوت مدافعت بڑھانے کیلئے مدد ملتی ہے ۔ یعنی ان کے جسم میں اب دوبارہ وائرس کے حملے کے خلاف لازمی قوت موجود ہوتی ہے۔ انہیں تین مہینوں سے 8 مہینوں تک کیلئے ویکسین کی ضرورت نہیں ہوگی۔ایسے افراد کو چاہیئےکہ وہ ان افراد کو موقع دیں جو ابھی کورونا وائرس سے متائثر نہیں ہوئے اور ان کا متائثر ہونے کا خطرہ زیادہ ہے۔
مجھے پہلی خوراک اور دوسری کے درمیان کے وقفے میں کورونا وائرس لاحق ہوا ہے ، میں کیا کروں ؟
وہ افراد جو بیمار ہونے کے بعد متائثر ہوئے ہیں اور اب ان میں کوئی علامات نہ ہوں تو انہیں ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق ویکسین لگوانے چاہیئے۔وہ افراد جو اسپتال میں داخل ہوئے ہیں اور ان کا وہاں علاج ہورہا ہے ، انہیں ڈاکٹر سے لازمی مشورہ کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ کسی بھی طرح کی معلومات یا اپوائنٹمنٹ کیلئے 800342 کی ہیلپ لائن پر کام کریں۔
Source : Khaleej Times







