متحدہ عرب امارات

دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی بندش کی تصدیق، ال مکتوم ایئرپورٹ کی تکمیل کے بعد دبئی ایئرپورٹ کا مستقبل زیر غور

خلیج اردو
دبئی: دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ  کی بندش کی باضابطہ تصدیق کر دی گئی ہے، جو 2032 تک ال مکتوم انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے پہلے مرحلے کی تکمیل کے بعد عمل میں آئے گی۔ اس تبدیلی کے بعد ڈی ایکس بی کے مقام پر دوبارہ ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے ماہرین کی جانب سے وسیع بحث چھڑ گئی ہے۔

امریکن یونیورسٹی آف شارجہ کے اربن پلاننگ پروگرام میں وزٹنگ اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر رانا شقاع نے کہا کہ ڈی ایکس بی کی دوبارہ ترقی میں دبئی کی شہری ضروریات، آبادی کے رجحانات اور نقل و حرکت کے پیٹرن کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ ان کے مطابق ایک جدید منصوبہ کم کاربن، مخلوط استعمال والے ضلع پر مرکوز ہوگا جو ماحولیاتی استحکام، مساوی رسائی اور معیار زندگی کو فروغ دے گا۔

گزشتہ ہفتے عربین ٹریول مارکیٹ میں ڈی ایکس بی کے سی ای او پال گریفتھس نے تصدیق کی کہ دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے علاقے کی دوبارہ ترقی پر توجہ دی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ علاقہ شارجہ کے بالکل قریب ہے اور اس کی دوبارہ ترقی سے شہر کا پھیلاؤ ممکن ہوگا اور ٹریفک کے موجودہ مسائل بھی کم ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کئی ریئل اسٹیٹ ڈویلپرز اس علاقے کو نئی شکل دینے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

میٹروپولیٹن پریمیم پراپرٹیز کے ڈپٹی ہیڈ آف سیلز، ابراہیم عبد الکریم کے مطابق ڈی ایکس بی کا رقبہ 29 مربع کلومیٹر سے زیادہ ہے، جو رہائشی، تجارتی، سیاحتی اور عوامی جگہوں کے لیے مخلوط استعمال کے لیے بے پناہ امکانات فراہم کرتا ہے۔

ایکسپو سٹی دبئی کے سنیئر مینیجر برائے پائیداری فلپ ڈن نے کہا کہ ڈی ایکس بی کی سائٹ کو ایک ماحولیاتی، بایوڈائیورس اور جامع اربن نیچر ڈسٹرکٹ میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، جو صحرائی شہروں کے لیے ایک ماڈل بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ علاقہ شہری حیاتیاتی تنوع، پائیداری ٹیکنالوجیز اور شہری سائنسی تحقیق کا مرکز بھی بن سکتا ہے، جہاں عوامی شمولیت اور تحقیق کا امتزاج ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے میں پیدل چلنے والوں کی سہولت، عوامی ٹرانزٹ، اور درمیانے اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے رہائشی آپشنز کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

ڈاکٹر رانا نے ڈی ایکس بی کی تاریخی اہمیت کو بھی اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس مقام پر ایئرپورٹ کے آثار اور تجرباتی عناصر کو محفوظ رکھنا ضروری ہوگا تاکہ ماضی کی جھلک برقرار رہے۔

ریئل اسٹیٹ ڈویلپرز نے اس موقع کو ایک ’’جیت‘‘ قرار دیا ہے۔ اوبجیکٹ ون کی سی ای او تاتیانا ٹونو نے کہا کہ ال مکتوم ایئرپورٹ کی توسیع دبئی میں شہری ترقی کے لیے ایک طاقتور محرک ہے، جو رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں نمایاں ترقی کی راہیں کھولے گی۔ انہوں نے برلن کے سابق ٹیمپل ہوف ایئرپورٹ کی مثال دی، جہاں ہوائی اڈے کی تبدیلی کے بعد شہری اراضی کو رہائشی اور عوامی ترقی کے لیے استعمال کیا گیا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button