عالمی خبریں

پاک بھارت جنگ کے دوران بھارت کی سفارتی اور عسکری ناکامی کیسے عیاں ہوئی؟ نیو انڈین ایکسپریس کا چشم کشا تجزیہ

خلیج اردو
نئی دہلی: نیو انڈین ایکسپریس نے آپریشن سندور کے بعد بھارت کی سفارتی اور عسکری ناکامیوں پر مبنی ایک جامع تجزیاتی رپورٹ شائع کرتے ہوئے مودی سرکار کی پالیسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت کو اپنے اس جارحانہ اقدام پر خطے کے کسی بھی پڑوسی ملک کی حمایت حاصل نہیں ہو سکی جبکہ روس اور گلوبل ساؤتھ ممالک نے مکمل غیر جانبداری اختیار کی۔

نیو انڈین ایکسپریس کے مطابق یورپی یونین کے ساتھ بھارت کی سفارتی کشیدگی کھل کر سامنے آگئی ہے جبکہ روس کی خاموشی اور بے رخی نے بھارت کی خارجہ پالیسی کی کمزوریاں بے نقاب کر دی ہیں۔ امریکی ثالثی کے بعد مودی سرکار کی قیادت مایوسی اور انکار کی کیفیت میں مبتلا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے بھارت کو انتباہ دیا ہے کہ اگر لڑائی نہ رکی تو واشنگٹن دہلی کے ساتھ تجارتی تعلقات معطل کر دے گا۔ انڈین ایکسپریس نے ٹرمپ کے اس بیان کو بھارت کی خارجہ پالیسی پر ایک سنگین سوالیہ نشان قرار دیا ہے۔

اخبار نے مزید لکھا ہے کہ آپریشن سندور کی قانونی حیثیت پر عالمی سطح پر شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں۔ بھارتی حکومت نے وائٹ ہاؤس میں وزیر اعظم کی ملاقات کے لیے زمین و آسمان ایک کر دیے، اور اس کے بعد بھارت نے غیر قانونی تارکین وطن کو ذلت آمیز انداز میں فوجی طیاروں کے ذریعے واپس بھیجا۔

رپورٹ کے مطابق بھارت نے امریکی دباؤ پر اپنی خودداری ترک کر کے تجارتی محصولات میں کمی کر دی جبکہ زرعی اشیاء بھی متاثر ہوئیں۔ بھارتی حکومت امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حق میں اپنی پالیسیوں اور قواعد و ضوابط کا ازسرنو جائزہ لے رہی ہے اور نیوکلیئر ری ایکٹر کمپنیوں کے لیے قوانین میں ترمیم کا وعدہ بھی کر چکی ہے، جس پر قومی سلامتی کے حوالے سے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

نیوز پیپر کے مطابق بھارت کا حکمران طبقہ کمپریڈر ایلیٹ میں تبدیل ہو چکا ہے جو مکمل طور پر امریکی مفادات کے تابع ہے۔ ان پالیسیوں پر عوامی سطح پر شدید تنقید جاری ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی بھارت کی کارروائیوں کی مذمت کی ہے۔

پاکستان کی جانب سے ایٹمی صلاحیت مؤثر انداز میں منوا لینے کا ذکر کرتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آپریشن سندور جیسے اقدامات دہرانے سے بھارت کو صرف شرمندگی کا سامنا ہوگا، کیونکہ صرف 100 گھنٹوں میں بھارت کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔

نیو انڈین ایکسپریس نے مودی سرکار کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بار بار کی عسکری مہم جوئی ترک کرے، کیونکہ اس سے نہ صرف بھارت کی قیادت پر عوام کا اعتماد متزلزل ہو رہا ہے بلکہ پاکستان جیسے ماہر اور بڑی عسکری طاقت کے حامل ملک کے خلاف یہ حکمت عملی بار بار ناکام ہو رہی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کو چاہیے کہ وہ غیر متعصب ثالث کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی طرف بڑھے اور پاکستان کی جوابی صلاحیت اور اپنی ناکام قیادت پر نظر ثانی کرے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button