
خلیج اردو
دبئی میں تعلیم کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے والدین کو طویل عرصے سے مشکلات میں مبتلا کر رکھا ہے۔ نالج اینڈ ہیومن ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے اب ایک نئی حکمت عملی کا اعلان کیا ہے جس کے تحت سماجی طور پر ذمے دار سرمایہ کاروں کو ترغیبات دی جائیں گی اور حکومتی تعاون کے ذریعے معیاری اور سستی تعلیم کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
سابق دبئی رہائشی جیمز ایچ نے بتایا کہ وہ اپنے تین بچوں کی اسکول فیس برداشت نہ کر سکے جو فی بچہ سالانہ ساٹھ ہزار درہم تھی۔ اس وجہ سے انہوں نے اپنے بچوں کو تین برس تک گھر پر پڑھایا اور آخرکار آسٹریلیا واپس جانا پڑا۔
برطانوی نژاد والدہ وکٹوریہ، جو دو بچوں کی تعلیم پر سالانہ ڈیڑھ لاکھ درہم خرچ کرتی ہیں، نے کہا کہ سستی اسکولنگ کا منصوبہ بہترین قدم ہے اور دبئی اسے کامیابی سے عملی شکل دے سکتا ہے۔ ان کے مطابق اسکولوں کو وظیفے کے پروگرام بھی شروع کرنے چاہئیں تاکہ طلبہ میں تنوع آئے۔
بھارتی نژاد سرایا بالا کرشنن نے کہا کہ ان کے والدین نے ان کی تعلیم کے لیے ماہانہ نو سو پچھتر درہم ادا کیے تھے، جبکہ اب وہ اپنے بیٹے کی ابتدائی جماعت کے لیے تین ہزار تین سو ساٹھ درہم ماہانہ ادا کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سستی تعلیم والدین کے لیے بڑا سہارا ثابت ہو سکتی ہے۔
خلیجی ممالک سے تعلق رکھنے والی مریم، جو ایک سنگل مدر ہیں اور اپنے دو بچوں کی تعلیم پر ایک لاکھ سولہ ہزار درہم سالانہ خرچ کرتی ہیں، نے کہا کہ یہ قدم خوش آئند ہے لیکن اس پر سخت نگرانی کی ضرورت ہے تاکہ معیار متاثر نہ ہو۔
پاکستانی نژاد سما شیخ، جو اپنے بچے کی تعلیم پر سالانہ چالیس ہزار درہم خرچ کرتی ہیں، نے کہا کہ فیس کا بوجھ والدین کے لیے انتہائی کٹھن ہے، سستی تعلیم ان کے لیے بڑی سہولت ثابت ہوگی۔ اسی طرح عالیہ حسین نے، جنہوں نے مہنگی فیسوں کے باعث اپنے بچوں کو دبئی سے شمالی امارات کے زیادہ سستے اسکولوں میں منتقل کیا، کہا کہ اگر دبئی میں سستی اور معیاری تعلیم میسر ہو تو والدین کی زندگی بہت آسان ہو جائے گی۔
والدین کے مطابق سستی لیکن معیاری تعلیم نہ صرف ان پر سے مالی دباؤ کم کرے گی بلکہ معیار زندگی کو بھی بہتر بنائے گی۔







