متحدہ عرب امارات

دبئی: تین پاکستانی باشندوں پر مشتمل گروہ کو گاڑی کی چابیاں چوری کرنے کے الزام میں 3 سال قید کی سزا سنا دی گئی

 

خلیج اردو آن لائن:

تین پاکستانی باشندوں پر مشتمل گروہ کو ایک بنگلے میں داخل ہوکر وہاں سے ایک گاڑی کی چابیاں چرانے کے الزام میں تین سال قید کی سزا سنا دی گئی۔

تینوں ملزمان کی عمریں 21 سال 28 سال کے درمیان ہیں۔

ان پر الزام تھا کہ وہ دبئی کے المراقبت کے علاقے میں سونا اور کیش چوری کرنے کے لیے ایک مرچنٹ کے بنگلے میں داخل ہوئے لیکن وہ وہاں سے صرف ایک قیمتی گاڑی کی چابیاں چوری کرنے میں ہی کامیاب ہوئے۔ جس کے بعد وہ مرچنٹ کے ڈرئیور کو اور گارڈ تشدد کا نشانہ بنا کر فرار ہوگئے۔

سرکاری ریکارڈ کے مطابق بنگلے کے یمنی گارڈ نے بتایا کہ وہ اپنے کمرے میں سو رہا تھا جب اس اسکی آنکھ کھلی تو گروہ ایک ممبر اس کی چھاتی پر چڑھا ہوا تھا اور اسے مارنے کی دھمکیاں دے رہا تھا۔

گارڈ نے بتایا کہ ” انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ بنگلے سے سونا اور کیش چوری کرنے ہیں۔ جس پر میں انہیں بتایا کہ مجھے نہیں پتا کہ سونا یا کیش کہاں رکھا ہے۔ ان میں سے ایک شخص نے مجھے کئی بار مارا اور پھر میرے ہاتھ اور ٹانگیں بیڈ سے باندھ دیں۔ جس کے بعد انہوں نے گاڑی کی چابیاں لیں اور چلے گے”۔

52 سالہ انڈین ڈرائیور نے بتایا کہ صبح ساڑھے تین بجے کے قریب تین لوگوں نے مجھے جگایا۔ ان لوگوں نے ماسک پہن رکھے تھے۔ اور اسے چھری کے ساتھ ڈرایا اور اس سے بنگلے کا دروازہ کھولنے کے لیے ریمورٹ کی مانگی۔ جس پر ڈرائیور نے انہیں بتایا کہ اس نے نہیں پتہ اس وقت بنگلے کی چابی کہا ہے۔ جس پر انہوں نے ڈرائیور کے منہ پر گھونسا مارا جس سے وہ بے ہوش ہوگیا۔

دبئی پولیس کو واقع کی اطلاع ملنے کے بعد دبئی پولیس نے ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

دبئی پولیس کے مطابق ملزمان  نے اقبال جرم کر لیا اور پولیس کو بتایا کہ وہ جانتے تھے کے بنگلے کا مالک مرچنٹ ہے اور وہ کیش بنگلے کے اندر رکھتا ہے اس لیے وہ سونا اور کیش چوری کرنے کے لیے بنگلے میں داخل ہوئے تھے۔

دبئی بپلک پراسیکیوشن نے تینوں ملزمان پر گاڑی کی چابی چرانے اور ڈرائیور اور گارڈ کو تشدد کا نشانہ بناے کے الزام عائد کیا تھا جس کا فیصلہ سناتے ہوئے دبئی کی ابتدائی عدالت نے تینوں افراد کو تین سال قید کی سزا سنادی ہے۔ جس کے بعد انہیں ملک بدر کر دیا جائے گا۔

تاہم، مجرمان 15 دنوں کے اندر عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر سکتے ہیں۔

Source: Gulf News

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button