متحدہ عرب امارات

دبئی کورٹس نے رواں سال کی پہلی ششماہی میں 103 فیصد کیس کلیئرنس ریٹ حاصل کیا

خلیج اردو
دبئی: دبئی کورٹس آف فرسٹ انسٹینس نے سال 2025 کی پہلی ششماہی میں کیس کلیئرنس ریٹ میں نمایاں بہتری حاصل کرتے ہوئے 103 فیصد کی شرح تک رسائی حاصل کی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔

جج خالد یحییٰ الحوسنی کی زیرصدارت اجلاس میں مختلف خصوصی عدالتوں کے صدور نے شرکت کی، جن میں کریمنل، لیبر، سول، رئیل اسٹیٹ، ایگزیکیوشن، کمرشل اور پرسنل اسٹیٹس کورٹس کے سربراہان شامل تھے۔ اجلاس میں کارکردگی کے نتائج، چیلنجز، حل اور عدالتی نظام کو بہتر بنانے کے لیے فعال اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

اعداد و شمار کے مطابق پہلی ششماہی میں 35,051 کیسز رجسٹر ہوئے جبکہ 36,076 کیسز نمٹائے گئے۔ رئیل اسٹیٹ کورٹ نے غیر معمولی کارکردگی دکھاتے ہوئے 743 نئے کیسز کے مقابلے میں 991 کیسز نمٹائے، جس سے کلیئرنس ریٹ 133 فیصد رہا۔ کمرشل کورٹ کا کلیئرنس ریٹ 112 فیصد جبکہ کریمنل کورٹ کا 103 فیصد رہا۔ پرسنل اسٹیٹس کورٹ نے بھی بڑی بہتری کے ساتھ 95 فیصد کیسز نمٹا دیے۔

جج خالد یحییٰ الحوسنی نے کہا کہ یہ نتائج فوری انصاف کے اصول پر دبئی کورٹس کے غیر متزلزل عزم کو ظاہر کرتے ہیں جو عوامی اعتماد کو مستحکم بنانے اور دبئی کو عالمی عدالتی جدت و ادارہ جاتی مہارت کا مرکز بنانے میں مددگار ہیں۔

اجلاس میں عدالتی فیصلوں کے درستگی انڈیکس پر بھی بات ہوئی، جس میں مختلف عدالتوں میں فیصلہ جاتی درستگی میں نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی۔ مزید برآں، ڈیجیٹل انفورسمنٹ مانیٹر کے ذریعے 568,883 درخواستوں پر عملدرآمد کیا گیا، جس سے 100 فیصد تکمیل کی شرح برقرار رہی۔

اعداد و شمار کے مطابق پرسنل اسٹیٹس کورٹ نے کیس نمٹانے کا دورانیہ 91 دن سے کم کر کے صرف 57 دن کر دیا، جبکہ لیبر کورٹ نے پہلی سماعت کے بعد فیصلے کا اوسط دورانیہ 52 دن سے کم کر کے 26 دن کر دیا۔

دبئی کورٹس کی یہ شاندار کارکردگی ان کے اس اسٹریٹیجک وژن "عالمی شہر کے لیے مثالی انصاف” کی عکاس ہے اور عدالتی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے عزم کی تصدیق کرتی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button