متحدہ عرب امارات

دبئی میں کرایہ داروں کو فلیکسی رینٹ اقدام کے تحت کرایہ ماہانہ، سہ ماہی یا چھ ماہ کی اقساط میں ادا کرنے کی سہولت مل سکتی ہے تاہم ہر کرایہ دار خودکار طور پر ماہانہ ادائیگی کا انتخاب نہیں کرسکتا

خلیج اردو
دبئی میں کرایہ داروں کو فلیکسی رینٹ اقدام کے تحت کرایہ ماہانہ، سہ ماہی یا چھ ماہ کی اقساط میں ادا کرنے کی سہولت مل سکتی ہے تاہم ہر کرایہ دار خودکار طور پر ماہانہ ادائیگی کا انتخاب نہیں کرسکتا

دبئی لینڈ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق فلیکسی رینٹ میں شمولیت ریئل اسٹیٹ اور پراپرٹی مینجمنٹ کمپنیوں کے لیے رضاکارانہ ہے، کمپنیاں خود فیصلہ کرتی ہیں کہ کون سی جائیدادیں اور یونٹس اس سہولت کے لیے اہل ہوں گے

اس اقدام کا مقصد کرایہ داروں پر ایک ساتھ بڑی رقم کی ادائیگی کا مالی دباؤ کم کرنا ہے جبکہ مالکان کو بہتر رہائشی شرح، بروقت ادائیگی اور طویل مدتی کرایہ دار حاصل کرنے میں مدد دینا ہے

فلیکسی رینٹ کے تحت ماہانہ، سہ ماہی اور چھ ماہ کی ادائیگی کے علاوہ بعض کمپنیوں کی جانب سے رعایتی پیشکشیں، تشہیری مراعات اور اضافی مہلت بھی دی جاسکتی ہے

ماہانہ کرایے کی سہولت صرف اسی صورت میں دستیاب ہوگی جب متعلقہ جائیداد فلیکسی رینٹ میں شامل ہو اور پراپرٹی مینجمنٹ کمپنی ماہانہ ادائیگی کا آپشن فراہم کرے

اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے کرایہ دار کو شریک پراپرٹی مینجمنٹ کمپنی سے رابطہ کرنا ہوگا، دستیاب ادائیگی کا منصوبہ منتخب کرنا ہوگا اور طے شدہ شرائط کو کرایہ داری کے معاہدے میں شامل کرنا ہوگا

فلیکسی رینٹ کے لیے متحدہ عرب امارات کے ایسے رہائشی اہل ہوسکتے ہیں جن کے پاس درست رہائشی دستاویزات موجود ہوں جبکہ کرایہ داری کا معاہدہ کم از کم 12 ماہ کا ہونا ضروری ہے

دبئی لینڈ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق اپارٹمنٹس، ولاز، دفاتر اور تجارتی یونٹس بھی اس اقدام کے تحت شامل ہوسکتے ہیں تاہم حتمی فیصلہ متعلقہ پراپرٹی مینجمنٹ کمپنی کرے گی

مثال کے طور پر 80 ہزار درہم سالانہ کرایہ چار سہ ماہی اقساط میں 20 ہزار درہم فی قسط ادا کرنے کے بجائے ماہانہ ادائیگی کی سہولت دستیاب ہونے کی صورت میں تقریباً 6 ہزار 667 درہم ماہانہ ادا کیے جاسکتے ہیں

فلیکسی رینٹ کے تحت کرایہ براہ راست دبئی لینڈ ڈیپارٹمنٹ وصول نہیں کرتا بلکہ شریک پراپرٹی کمپنیاں کرایہ داری کے معاہدے اور ادائیگی کے معاملات سنبھالتی ہیں

دبئی لینڈ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق اس اقدام سے مالکان اور پراپرٹی کمپنیوں کو بہتر رہائشی شرح، ادائیگی میں کم تاخیر، بہتر مالی روانی اور نئے کرایہ داروں کو راغب کرنے میں مدد مل سکتی ہے

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button