
خلیج اردو
دبئی: دبئی میں سونے کی قیمت میں ایک ماہ کے دوران فی گرام 34 درہم کی نمایاں کمی ہوئی ہے، جب کہ عالمی سطح پر سونا اپنی بلند ترین سطح $3,500 فی اونس سے گر کر $3,201 تک آ گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں میں خطرہ مول لینے کی خواہش بڑھنے سے سونے کی مانگ کم ہو رہی ہے، جس سے آئندہ دنوں میں قیمت مزید نیچے جا سکتی ہے۔
دبئی میں سونا اپریل میں 420 درہم فی گرام کی ریکارڈ سطح پر پہنچا تھا، جو اب 386 درہم پر آ چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی معاہدے اور جغرافیائی کشیدگی میں کمی کی وجہ سے سونا اپنی چمک کھو رہا ہے۔
مالیاتی تجزیہ کار وائل مکارم کے مطابق:
"سونے کی قیمتوں میں حالیہ کمی امریکی فیڈرل ریزرو اور حکومت کے درمیان تناؤ، تجارتی جنگ اور عالمی سطح پر تناؤ میں بہتری کے باعث دیکھنے میں آئی ہے۔ اگر یہ بہتری جاری رہی تو سونا $3,000 کی سطح سے بھی نیچے آ سکتا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی اور یورپی اسٹاک مارکیٹس میں 20 فیصد تک بہتری نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا ہے، جو سونے کی مانگ میں کمی کی ایک اور بڑی وجہ ہے۔
ایکس ایس ڈاٹ کام کے احمد نجم نے پیش گوئی کی کہ
"2025 کی دوسری سہ ماہی میں سونے کی قیمت $3,000 سے نیچے آ سکتی ہے کیونکہ مارکیٹ میں سونے کے لیے مثبت جذبات نظر نہیں آ رہے۔ اس کے برعکس، کرپٹو کرنسی جیسے رسکی اثاثے زیادہ توجہ حاصل کریں گے۔”
ایکویٹی کی تجزیہ کار فرح مراد نے سونے کی موجودہ سطح کو "سپورٹ زون” قرار دیتے ہوئے کہا کہ
"$3,000 کے قریب چین اور دیگر مرکزی بینکوں کی خریداری کی بنیاد موجود ہے، جو اس سطح کو مستحکم رکھ سکتی ہے۔ تاہم $3,500 کی سطح غیر معمولی تھی اور اس کی اصلاح ضروری تھی۔”
ساکسو بینک کے اولے ہینسن نے سونے کی حالیہ گراوٹ کو 2023 کے بعد کی سب سے بڑی "اصلاح” قرار دیا اور کہا:
"اگرچہ ہم اپنے 2025 کے ہدف $3,500 کو پہلے ہی حاصل کر چکے ہیں، مگر موجودہ صورت حال میں مارکیٹ محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ طویل المدت میں مرکزی بینکوں کی خریداری، جغرافیائی خطرات، قرض اور مہنگائی کے خدشات سونے کی قیمتوں کو سہارا دیتے رہیں گے، لیکن فی الحال قیمتوں میں استحکام ضروری ہے۔





