
خلیج اردو
دبئی میں ہفتے کے آغاز پر سونے کی قیمتیں مستحکم رہیں، جہاں 24 قیراط سونے کی قیمت 505.5 درہم فی گرام ریکارڈ کی گئی۔ بھارت میں نو روزہ مذہبی تہوار نوراتری کے آغاز کے موقع پر سونے کی خریداری میں دلچسپی بڑھنے کی توقع ہے، کیونکہ اس تہوار کو سونا خریدنے کے لیے مبارک تصور کیا جاتا ہے۔
دبئی جیولری گروپ کے اعداد و شمار کے مطابق پیر کی صبح 22 قیراط سونے کی قیمت 468 درہم، 21 قیراط کی 448.75 درہم اور 18 قیراط سونے کی قیمت 384.75 درہم فی گرام رہی، جبکہ 14 قیراط سونا 300 درہم فی گرام میں فروخت ہوتا رہا۔
بھارت میں نوراتری کا تہوار مسلسل نو روز جاری رہتا ہے۔ اس موقع پر بہت سے خاندان خوشحالی، دولت اور خوش قسمتی کی علامت سمجھتے ہوئے سونے کے زیورات، سکے اور بسکٹ خریدتے ہیں۔ تہوار کے دوران زیورات کے کاروبار سے وابستہ دکانداروں کو خریداری میں اضافے کی توقع ہوتی ہے۔
عالمی مارکیٹ میں اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.16 فیصد کمی کے بعد 4,188 ڈالر فی اونس ریکارڈ کی گئی، جبکہ چاندی کی قیمت بھی 0.14 فیصد گھٹ کر 223.55 ڈالر فی اونس رہی۔
ایکس ایس ڈاٹ کام کے سربراہ برائے کاروباری ترقی سائمن پیٹر مسابنی کے مطابق سونے کی عالمی مارکیٹ اس وقت ایک اہم مرحلے میں داخل ہورہی ہے اور قیمت تقریباً 4,185 ڈالر فی اونس کے قریب رہتے ہوئے دوبارہ 4,200 ڈالر کی سطح حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ان کے مطابق امریکی ڈالر کی کمزوری اور امریکی ٹریژری بانڈز کے منافع میں کمی سونے کی قیمتوں کو سہارا دے سکتی ہے۔ ڈالر کمزور ہونے سے دوسری کرنسیوں میں سونا خریدنے والوں کے لیے یہ نسبتاً سستا ہوجاتا ہے، جبکہ بانڈز کے منافع میں کمی سے سونے جیسے اثاثے رکھنے کی موقعی لاگت کم ہوجاتی ہے، کیونکہ سونا باقاعدہ منافع نہیں دیتا۔
سائمن پیٹر مسابنی نے کہا کہ سونے کی قیمتوں میں بہتری کا تسلسل اس بات پر منحصر ہوگا کہ بانڈز کے منافع میں کمی برقرار رہتی ہے یا نہیں۔ اگر امریکی ڈالر دوبارہ مضبوط ہوا اور بانڈز کے منافع میں اضافہ ہوا تو سونے کی حالیہ تیزی متاثر ہوسکتی ہے۔
ان کے مطابق رواں ہفتے جاری ہونے والے امریکی صارف قیمت اشاریے کے اعداد و شمار سونے کی قیمتوں کی آئندہ سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ مہنگائی توقعات سے کم رہنے کی صورت میں امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے سخت مالیاتی پالیسی برقرار رکھنے کے امکانات کم ہوسکتے ہیں، جس سے بانڈز کے منافع میں کمی اور سونے کی قیمتوں میں اضافے کی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے۔
اس کے برعکس اگر اعداد و شمار سے مہنگائی کا دباؤ برقرار رہنے کا اشارہ ملا تو شرح سود میں مزید اضافے کی توقعات دوبارہ زور پکڑ سکتی ہیں۔ ایسی صورتحال میں ڈالر اور بانڈز کے منافع میں اضافہ سونے کی قیمتوں پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔ مسابنی کے مطابق امریکی مہنگائی کے اعداد و شمار جاری ہونے سے پہلے مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ بڑھ سکتا ہے، جبکہ سرمایہ کاروں کا ردعمل سونے کی آئندہ قیمتوں کے تعین میں اہم ہوگا۔







