متحدہ عرب امارات

ڈاکٹروں نے کہا تھا شاید کبھی چل نہ سکے، یو اے ای میں ماں بیٹے کی محبت میں اونٹ پر 150 کلومیٹر سفر کرے گی

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں ایک ماں اپنے چھ سالہ بیٹے سیمسن کی نایاب جینیاتی بیماری کے بارے میں آگاہی پھیلانے کے لیے 15 روز کے دوران اونٹ پر صحرا میں 150 کلومیٹر سفر کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ ریان ایڈمز کے بیٹے سیمسن کو اینجل مین سنڈروم لاحق ہے، جو ایک نایاب جینیاتی بیماری ہے اور بچوں کی نشوونما، جسمانی حرکات اور رابطے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔

سیمسن بول نہیں سکتا، تاہم موسیقی سننے، جھولے لینے، کھیلنے اور کھانے سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ اس کی والدہ چاہتی ہیں کہ لوگ بیماری کے بجائے اس بچے کی شخصیت، خوش مزاجی اور زندگی سے محبت کو بھی دیکھیں۔

سیمسن کی نشوونما میں فرق کی پہلی علامات پانچ ماہ کی عمر میں سامنے آئیں۔ اسے پیٹ کے بل لیٹنے، بیٹھنے اور چیزوں کی طرف ہاتھ بڑھانے میں مشکلات پیش آتی تھیں۔ وہ تقریباً 18 ماہ کی عمر میں خود بیٹھنے لگا، جبکہ ڈھائی سال کی عمر میں گھٹنوں کے بل چلنا شروع کیا۔ جینیاتی ٹیسٹ کے ذریعے 12 اکتوبر 2020 کو، صرف 10 ماہ کی عمر میں، اس میں اینجل مین سنڈروم کی تشخیص ہوئی۔ ریان ایڈمز کے مطابق انہوں نے اس بیماری کا نام پہلے کبھی نہیں سنا تھا اور تشخیص کے بعد بیٹے کے مستقبل کے حوالے سے بہت سے خدشات پیدا ہوئے۔

ڈاکٹروں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ سیمسن شاید کبھی چل نہ سکے، تاہم مسلسل کوشش، صبر اور تربیت کے بعد اس نے اپنے قدموں پر چلنا سیکھ لیا۔ اس کی والدہ نے وعدہ کیا تھا کہ اگر بیٹا چلنا سیکھ گیا تو وہ اپنے ہاتھوں کے بل چلنے کی مشق کریں گی۔ سیمسن کے چلنے کے بعد انہوں نے اپنا وعدہ پورا کیا۔ ان کے مطابق بیٹے کے پہلے قدم برسوں کی محنت اور بار بار کوشش کرنے کا نتیجہ تھے، جنہوں نے انہیں غیر یقینی حالات میں بھی امید قائم رکھنے کا سبق دیا۔

سیمسن کو اب تک 25 مرتبہ ہسپتال میں داخل کیا جا چکا ہے۔ اسے ایک بار پھیپھڑوں میں خوراک یا دودھ چلے جانے کے باعث نمونیا ہوا، جس کے بعد وہ ایک ماہ تک انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں زیر علاج رہا۔ اس کی والدہ کے مطابق سانس کی بیماریاں اس کے لیے خاص طور پر خطرناک ثابت ہوتی ہیں اور عام نزلہ زکام میں بھی اسے آکسیجن کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ انتہائی نگہداشت میں گزارے گئے ایک مشکل وقت نے انہیں احساس دلایا کہ بیٹے کے مستقبل کے خدشات سے بڑھ کر اس کی زندگی اور صحت اہم ہیں۔

ریان ایڈمز فٹنس کوچ اور کھلاڑی ہیں۔ وہ پہلے کامیابی کو طاقت، رفتار اور مقابلوں کے نتائج سے ناپتی تھیں، لیکن سیمسن نے انہیں چھوٹی کامیابیوں کی قدر کرنا سکھایا۔ ان کے مطابق نل کھولنا، دروازے کا ہینڈل گھمانا یا ایک قدم اٹھانا بھی ان کے گھر میں بڑی کامیابی سمجھی جاتی ہے۔ سیمسن اپنے تاثرات، آوازوں، حرکات اور ردعمل کے ذریعے اپنی ضروریات ظاہر کرتا ہے۔ اس کی والدہ کا کہنا ہے کہ بول نہ سکنے کا مطلب یہ نہیں کہ کسی بچے کے پاس اظہار کے لیے کچھ نہیں، بلکہ ایسے بچوں کو بھی اپنی بات کہنے، جواب دینے اور دوسروں کے ساتھ سرگرمیوں میں شامل ہونے کا موقع ملنا چاہیے۔
اونٹ پر 150 کلومیٹر سفر کے اس منصوبے کا نام کروموسوم 15 کے حوالے سے رکھا گیا ہے، جہاں سیمسن کے جینیاتی مادے میں بڑی کمی پائی گئی ہے۔ اس کے نام کا انگریزی عنوان ”کیریڈ تھرو دی سینڈ: 15 ڈیز فار کروموسوم 15“ ہے۔ اس مہم میں روزانہ تقریباً 10 کلومیٹر سفر کیا جائے گا اور ہر روز اینجل مین سنڈروم کے کسی مختلف پہلو، مثلاً تشخیص، دوروں، رابطے، نشوونما اور معاشرتی شمولیت کے بارے میں آگاہی دی جائے گی۔ ریان ایڈمز نے 2017 میں بھی اونٹوں کے ایک قافلے کے ساتھ صحرا میں 10 دن گزارے تھے، تاہم اس مرتبہ وہ ایک ایسے بچے کی ماں کی حیثیت سے یہ سفر کریں گی جسے پیچیدہ طبی ضروریات کا سامنا ہے۔

ریان ایڈمز کو اینجل مین سنڈروم تھیراپیوٹکس فاؤنڈیشن کے ذریعے ایسے خاندانوں اور افراد سے رابطے کا موقع ملا جو اس بیماری پر تحقیق اور متاثرہ بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے کام کر رہے ہیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ ان کی مہم سے تحقیق میں دلچسپی بڑھے، متحدہ عرب امارات کے طبی ماہرین اور جینیاتی سائنس دان مطالعات میں حصہ لیں اور مستقبل میں متاثرہ خاندانوں کو طبی آزمائشوں تک بہتر رسائی مل سکے۔ ان کی خواہش ہے کہ لوگ معذوری کے شکار بچوں کو نظرانداز کرنے کے بجائے انہیں اپنے ساتھیوں اور بہن بھائیوں کے ساتھ سرگرمیوں میں شامل کرنے کے طریقے تلاش کریں۔

مشکلات، ہسپتالوں کے چکر اور بے یقینی کے باوجود سیمسن کی والدہ نہیں چاہتیں کہ ان کے خاندان کی پہچان صرف بیماری بن کر رہ جائے۔ وہ چاہتی ہیں کہ لوگ سیمسن کی ہنسی، موسیقی سے محبت، کھیل کود اور اپنی بڑی بہن سیرن کے ساتھ اس کے تعلق کو بھی دیکھیں۔ ان کے مطابق بیٹے نے انہیں کامیابی کا مطلب نئے انداز سے سمجھایا ہے، کیونکہ سیمسن ان سے کسی کارکردگی یا کامیابی کا مطالبہ نہیں کرتا بلکہ ان کی موجودگی، محبت اور توجہ چاہتا ہے۔ وہ اینجل مین سنڈروم کی تشخیص پانے والے بچوں کے والدین کو بھی یہی پیغام دینا چاہتی ہیں کہ تشخیص کے بعد بھی ان کا بچہ وہی ہے جس سے وہ پہلے محبت کرتے تھے؛ زندگی میں مشکلات کے ساتھ خوشی، محبت اور ایسی کامیابیاں بھی آ سکتی ہیں جن کا کبھی تصور نہیں کیا گیا تھا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button