
خلیج اردو
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے کے بعد متحدہ عرب امارات کے رہائشیوں اور تارکین وطن نے سعودی عرب اور یو اے ای کے درمیان سفر کے منصوبوں پر نظرثانی شروع کردی ہے۔ حملے میں 12 افراد ہلاک اور 309 زخمی ہوئے، جبکہ ایئرلائنز نے پروازوں کے شیڈول میں تبدیلیاں کی ہیں اور ایئرپورٹ کی سرگرمیاں بحال ہونے کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال برقرار ہے۔
سعودی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن کے مطابق ہفتے کے روز ہونے والے حملے میں سعودی عرب کے چار شہری، بنگلہ دیش کے دو افراد جبکہ امریکا، اردن، فلسطین، شام، سوڈان اور مصر کا ایک ایک شہری ہلاک ہوا۔ حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو مختلف ہسپتالوں میں ضروری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ حملے کے نتیجے میں املاک کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے حملے کو سعودی عرب کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی اور اس کی سلامتی و استحکام کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے مملکت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ وزارت نے سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے تمام اقدامات کی حمایت کا اعادہ بھی کیا۔
ریاض میں کام کرنے والے ایک 47 سالہ سری لنکن شہری نے ایئرپورٹ پر حملے کے بعد دبئی میں اپنے اہل خانہ سے ملاقات کے لیے طے شدہ سفر ملتوی کردیا۔ ان کی اہلیہ اور بچے دبئی میں رہتے ہیں اور وہ عموماً ہر دو ہفتے بعد ان سے ملنے متحدہ عرب امارات آتے ہیں۔ ان کے مطابق انہوں نے اہل خانہ سے مشاورت کے بعد اس ہفتے کے آخر میں سفر نہ کرنے کا فیصلہ کیا، کیونکہ ریاض میں اہم کاروباری ملاقاتیں بھی طے ہیں اور پروازوں میں ممکنہ تاخیر یا منسوخی سے واپسی متاثر ہوسکتی ہے۔
ریاض میں مقیم ایک آزاد پیشہ ور ولیم آر نے بھی متحدہ عرب امارات کے دورے سے متعلق اپنے منصوبوں پر نظرثانی شروع کردی ہے۔ وہ امارات میں مختلف گاہکوں کے ساتھ کام کرتے ہیں اور اس ماہ شارجہ انٹرنیشنل بک فیئر سمیت دبئی میں ہونے والی اہم تقریبات میں شرکت کا ارادہ رکھتے تھے۔ ان کے مطابق ریاض کے ہوائی اڈے کو رواں ہفتے تیسری مرتبہ نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات کے بعد وہ صورت حال کا جائزہ لے کر سفر کا حتمی فیصلہ کریں گے۔
دوسری جانب اتحاد ایئرویز نے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر آپریشنل رکاوٹوں کے باعث 11 اور 12 اکتوبر کو ابوظبی اور ریاض کے درمیان آٹھ پروازیں منسوخ کردی ہیں۔ اتوار کو زاید انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ریاض کے درمیان تین مرتبہ آنے اور جانے والی پروازیں متاثر ہوئیں، جبکہ پیر کو ای وائی 551 اور ای وائی 552 بھی منسوخ کردی گئیں۔ ایئرلائن کے مطابق صورت حال مسلسل تبدیل ہورہی ہے اور پروازوں کے شیڈول میں مزید تبدیلیاں بھی ہوسکتی ہیں۔
دبئی کی ایئرلائن فلائی دبئی نے بھی ریاض کے لیے پروازیں 14 اکتوبر تک معطل کردی ہیں۔ پروازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی بندش میں مزید 24 گھنٹے کی توسیع کی اطلاع دی گئی ہے، جس کے تحت ایئرپورٹ کی بندش رات ایک بجے تک برقرار رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا۔ تاہم خبر لکھے جانے تک سعودی حکام نے بندش میں توسیع کی باضابطہ تصدیق نہیں کی تھی۔ مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ ایئرپورٹ روانہ ہونے سے پہلے اپنی متعلقہ ایئرلائن سے پرواز کی تازہ ترین صورت حال معلوم کریں۔







