
خلیج اردو
دبئی کے بزنس بے علاقے میں قائم "گلف فرسٹ کمرشل بروکرز” نامی فرم راتوں رات دفاتر خالی کرکے غائب ہو گئی، جس سے درجنوں سرمایہ کاروں کے کروڑوں درہم ڈوب گئے۔ کیپیٹل گولڈن ٹاور کی تیسری منزل پر واقع دفاتر 302 اور 305 اب خالی پڑے ہیں، جہاں ایک وقت میں تقریباً 40 ملازمین موجود ہوتے تھے اور سرمایہ کاروں کو فاریکس سرمایہ کاری کی پیشکش کے لیے مسلسل کالز کرتے تھے۔
دفاتر کے باہر اب صرف ایک کوڑا دان اور ایک جھاڑو باقی ہے، جبکہ اندر تاریں دیواروں سے نکلی ہوئی اور فرش گرد آلود ہیں۔ دفتر بند ہونے کے بعد متعدد متاثرین وہاں پہنچے لیکن کوئی جواب نہ ملا۔
متاثرین میں شامل بھارتی ریاست کیرالہ سے تعلق رکھنے والے محمد اور فیاض پوئیل نے بتایا کہ انہوں نے مجموعی طور پر 75 ہزار ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ فیاض نے کہا، "ہم نے ہر نمبر پر کال کی، لیکن کوئی جواب نہیں ملا، جیسے یہ لوگ کبھی یہاں تھے ہی نہیں۔”
تحقیقات سے انکشاف ہوا ہے کہ کمپنی نے صارفین کو ایک غیر ریگولیٹڈ آن لائن پلیٹ فارم "سیگما ون کیپیٹل” میں سرمایہ کاری پر مجبور کیا، جہاں محفوظ منافع کی ضمانت دی گئی تھی۔ ایک اور متاثرہ، سنجیو نے بتایا کہ کمپنی نے جھوٹے وعدوں کے ذریعے انہیں زندگی کی جمع پونجی لگا دینے پر آمادہ کیا۔
متعدد سرمایہ کاروں نے انکشاف کیا کہ کمپنی کے ملازمین "گلف فرسٹ” اور "سیگما ون” کو ایک ہی کمپنی ظاہر کرتے تھے۔ محمد نے بتایا کہ انہوں نے 50 ہزار ڈالر کی رقم کھو دی اور بعد میں پتہ چلا کہ سیگما ون کا کوئی رجسٹریشن یا لائسنس دبئی فنانشل سروسز اتھارٹی (DFSA) یا سیکیورٹیز اینڈ کموڈٹیز اتھارٹی (SCA) کے پاس موجود نہیں تھا۔
کمپنی نے سینٹ لوشیا میں رجسٹریشن کا دعویٰ کیا اور بر دبئی کے مصلیٰ ٹاور میں دفتر کی معلومات دیں، لیکن وہاں کبھی کوئی دفتر موجود نہیں رہا۔ پولیس کو دونوں کمپنیوں کے خلاف شکایت درج کرائی جا چکی ہے۔
سکیورٹی گارڈز کے مطابق کمپنی نے دفاتر جلد بازی میں خالی کیے اور چابیاں واپس دے کر چلے گئے۔ روزانہ کئی متاثرین دفتر کے بارے میں پوچھنے آتے ہیں۔
متاثرہ سرمایہ کاروں کی کہانی ایک جیسی ہے: ابتدائی کالز سے تعلق قائم کیا جاتا، پھر "ریلیشن شپ مینیجر” نامزد کیا جاتا، جو دھیرے دھیرے اعتماد حاصل کر کے بڑی سرمایہ کاری کے لیے دباؤ ڈالتا۔ ایک شخص نے بتایا کہ سیگما ون نے اسے مقامی زبان بولنے والے مینیجر سے منسلک کیا جس نے دھوکہ دہی سے اسے 2 لاکھ 30 ہزار ڈالر (تقریباً 8 لاکھ 44 ہزار درہم) سے زائد کی سرمایہ کاری پر آمادہ کیا۔
پلیٹ فارم نے ابتدا میں معمولی منافع دکھایا اور محدود رقم نکالنے کی اجازت دی تاکہ اعتماد قائم ہو۔ بعد میں رقم نکالنے پر پابندی لگ گئی اور خطرناک اثاثوں میں سرمایہ کاری پر زور دیا گیا، جن میں سے بعض اثاثے فرضی ثابت ہوئے۔
کئی متاثرین اب قرضوں میں ڈوب چکے ہیں، کچھ کو بینکوں کی جانب سے قانونی کارروائی کا سامنا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ فراڈ مخصوص حکمتِ عملی کے تحت کیا گیا، جس میں پہلے کال سینٹرز سے رابطہ کیا جاتا، ابتدائی سرمایہ حاصل کرنے کے بعد ریلیشن شپ مینیجر کے ذریعے مزید سرمایہ کاری کرائی جاتی۔







