
خلیج اردو
دبئی ہیلتھ اتھارٹی نے لواحقین کی سہولت کے لیے ’جبر پلیٹ فارم‘ متعارف کرا دیا ہے جس کا مقصد کسی عزیز کے انتقال کے بعد درکار تمام سرکاری کارروائیوں کو ایک جگہ، تیز رفتار اور ہمدردانہ انداز میں مکمل کرنا ہے۔ اس نظام کے تحت اہل خانہ کو مختلف محکموں کے چکر نہیں لگانے پڑیں گے بلکہ ایک سرکاری سروس آفیسر تمام کارروائی خود انجام دے گا، جس میں ضروری دستاویزات کا اجرا، تدفین یا میت کی بیرونِ ملک منتقلی کا انتظام اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مکمل رابطہ شامل ہے۔
نئے نظام میں موت کا اندراج ہوتے ہی تمام متعلقہ اداروں کو خودکار طریقے سے نوٹی فکیشن بھیج دیا جائے گا جس سے خدمات فوری طور پر شروع ہو سکیں گی اور خاندان کو جذباتی اور سماجی پہلوؤں پر زیادہ توجہ دینے کا موقع ملے گا۔ اسی طرح میت کی منتقلی اور ریپٹری ایشن کے عمل کو بھی تیز کر دیا گیا ہے جبکہ تدفین اور تعزیت سے متعلق مراحل کا دورانیہ کم کر کے ایک مؤثر نظام قائم کیا گیا ہے۔
’سٹی میکرز‘ منصوبے کے تحت متعارف کیا گیا یہ پلیٹ فارم لواحقین پر مالی بوجھ کم کرنے، تدفین و منتقلی کے عمل کو آسان بنانے اور انتظامی جھنجھٹ کو کم کرنے میں مدد دے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ خاندانوں کو تعزیت سے پہلے، دوران اور بعد میں نفسیاتی، سماجی اور مذہبی مدد بھی فراہم کی جائے گی۔
دبئی ہیلتھ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر علوی الشیخ علی کے مطابق اس نظام کا مقصد سوگوار خاندانوں کو مکمل توجہ، دیکھ بھال اور عملی تعاون فراہم کرنا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ امارات اپنی پالیسیوں اور خدمات میں سب سے پہلے انسان کو ترجیح دیتا ہے۔
جبر سسٹم کے ترجمان اور ڈی ایچ اے کے ڈائریکٹر آئی ٹی ماجد المحیری کے مطابق نئے نظام کے تحت موت کا سرٹیفکیٹ خودکار طور پر جاری ہو کر تمام اداروں کو بھیج دیا جاتا ہے، جس کے بعد کسی بھی محکمے کو اسے دوبارہ طلب کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ سرکاری سروس آفیسر تمام مراحل نمٹا کر خاندان کو مکمل سماجی اور عملی مدد فراہم کرتا ہے۔
یہ مربوط پلیٹ فارم سوگوار خاندانوں کے گرد نفسیاتی اور سماجی معاونت کا ایک جامع نظام قائم کرتا ہے تاکہ وہ مشکل حالات سے بہتر طور پر گزر سکیں۔
اہم خصوصیات
ہر خاندان کے لیے سرکاری سروس آفیسر جو تدفین، ریپٹری ایشن اور تمام سرکاری کارروائیوں کی نگرانی کرے گا، اور موت کے اندراج کے فوراً بعد تمام خدمات خود بخود شروع ہوں گی۔
ایمریٹی خاندانوں کے لیے تین روزہ تعزیت کے لیے اضافی خیمہ اور مہمان نوازی کی سہولت جبکہ غیر ملکی خاندانوں کے لیے فلاحی اداروں اور عبادت گاہوں کے ذریعے مدد فراہم کی جائے گی۔
کے ایچ ڈی اے کے تربیت یافتہ اسکول کاؤنسلرز طلبہ کی نفسیاتی معاونت کریں گے جبکہ مذہبی رہنماؤں کی معاونت بھی دستیاب ہوگی۔
تمام اداروں کو ایک ہی ڈیجیٹل سسٹم کے تحت فوری نوٹی فکیشن ملے گا اور ادائیگی کا متحدہ نظام لین دین کم کر دے گا۔
دبئی کورٹس موت کے سرٹیفکیٹ کے اجرا کے فوراً بعد خودکار طور پر وراثتی کیس درج کریں گی تاکہ شرعی سرٹیفکیٹ سمیت تمام وراثتی کارروائیاں آسانی سے مکمل ہو سکیں۔
اجرا ہونے والی سہولیات میں غسل و کفن کے تربیت یافتہ رضاکار، بہتر قبرستان خدمات اور تیار شدہ کفن کٹ شامل ہیں جن کا مقصد تدفین کے عمل کو مزید تیز اور آسان بنانا ہے۔







