
خلیج اردو
دبئی: دبئی مرینا میں جمعہ کی صبح ایک رہائشی بلند عمارت کی بالائی منزل پر لگنے والی آگ کو فوری کارروائی کرتے ہوئے چند گھنٹوں میں مکمل طور پر قابو پا لیا گیا۔ واقعے کے بعد مرینا سیل نامی متاثرہ عمارت کے رہائشیوں کو تقریباً دو گھنٹے کی انخلاء کے بعد واپس اپنے فلیٹس میں جانے کی اجازت دے دی گئی۔
آٹھویں منزل پر رہائش پذیر بھارتی خاتون پریتی ایس نے اس موقع پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "مجھے صبح آٹھ بجے کام پر پہنچنا تھا، لیکن پہلے خود کو سنبھالوں گی، رات کافی مشکل گزری ہے۔”
شامی طالب علم زیڈ، جو اسی عمارت میں رہتے ہیں، نے بتایا کہ صبح ساڑھے تین بجے فائر الارم اور عمارت خالی کرنے کے ریکارڈ شدہ پیغام سے ان کی آنکھ کھلی۔ انہوں نے کہا، "یہ خوفناک تجربہ تھا، لیکن خوش قسمتی سے ہم وقت پر باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔”
متعدد رہائشی، جو ابھی تک اپنے سلیپنگ گاؤن اور پاجامے میں تھے، جلدی میں عمارت سے باہر نکلے۔ بیبلوس ہوٹل کے عملے نے متاثرہ افراد کی مدد کی اور کچھ رہائشیوں کو ہوٹل کے اندر پناہ دی گئی۔
لبنانی شہری اے مختار کو عمارت سے نکلتے وقت اپنے پالتو کچھوے کو سنبھالے ہوئے دیکھا گیا۔ انہوں نے کہا، "مجھے نہیں معلوم آگ کہاں لگی ہے، لیکن جب میں نکلا تو عمارت کے اندر دھواں بہت زیادہ تھا۔”
پہلی منزل کے رہائشی ایم کے نے خود کو خوش نصیب قرار دیا کہ وہ پہلے ہی جاگ رہے تھے۔ انہوں نے کہا، "میں اپنی شرٹ استری کر رہا تھا کہ فائر الارم بجنے لگا۔”
تاہم کچھ افراد کے لیے یہ واقعہ ماضی کی تکلیف دہ یادیں تازہ کر گیا۔ روسی شہری انیا، جو چند ہفتے قبل ہی مرینا سیل میں منتقل ہوئی تھیں، نے کہا کہ یہ تجربہ ان کے لیے "دوبارہ صدمے” کا باعث بنا۔ انیا اس سے پہلے مرینا پناکل میں لگنے والی آگ میں بھی متاثر ہوئی تھیں۔ ان کا کہنا تھا، "میں کانپ رہی ہوں۔ میں نے سوچا تھا کہ یہاں منتقل ہو کر دوبارہ اس اذیت سے نہیں گزرنا پڑے گا۔”
یاد رہے کہ جون میں دبئی مرینا کے ٹائیگر ٹاور میں لگنے والی آگ کے باعث 3,820 رہائشیوں کو رات بھر کی جدوجہد کے بعد محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد ٹرام سروس 24 گھنٹے کے لیے معطل رہی اور رہائشیوں کی قیمتی اشیاء تک رسائی ممکن نہ ہو سکی۔ جولائی 17 تک کئی متاثرہ افراد کو نیا رہائشی مقام تلاش کرنے میں دشواری کا سامنا تھا۔






