
خلیج اردو
دبئی: امریکہ کی جانب سے بھارتی مصنوعات پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کے فیصلے کے بعد بھارتی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں مزید کمزور ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یو اے ای سمیت دیگر ممالک میں مقیم بھارتیوں کے لیے یہ صورتحال ایک موقع بن کر سامنے آ سکتی ہے کیونکہ روپے کی قدر میں کمی کے باعث وہ زیادہ فائدہ مند ریٹس پر ترسیلات زر کر سکیں گے۔
گزشتہ دو ماہ کے دوران بھارتی روپیہ درہم کے مقابلے میں تقریباً ایک روپیہ کمزور ہو چکا ہے، جو مئی کے آغاز میں 22.9 سے کم ہو کر 31 جولائی کو 23.89 پر پہنچ گیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یکم اگست سے نافذ ہونے والے امریکی ٹیرف کے بعد روپیہ مزید گر کر 24 درہم تک پہنچ سکتا ہے۔
سینچری فنانشل کے چیف انویسٹمنٹ آفیسر وجے ویلیچا کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیرف فیصلے کے باعث روپیہ دباؤ میں ہے، جس سے این آر آئیز (غیر مقیم بھارتی) کو ترسیلات کے لیے بہتر مواقع مل سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط امریکی ڈالر بھی روپے پر دباؤ ڈال رہا ہے، جس سے ترسیلات زر میں اضافہ متوقع ہے۔
ویلیچا نے کہا کہ بھارت میں شرح سود میں مزید کمی کے امکانات بھی کم ہو گئے ہیں، کیونکہ روپے کی گراوٹ کے باعث مالیاتی نرمی کی گنجائش محدود ہو چکی ہے۔
یو اے ای میں مقیم تقریباً 37 لاکھ بھارتی سالانہ اربوں درہم وطن بھجواتے ہیں۔ روپے کی گراوٹ سے ترسیلات زر میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ این آر آئیز ذاتی و سرمایہ کاری مقاصد کے لیے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔
صدر ٹرمپ نے بھارت پر مزید پابندیوں کی دھمکی بھی دی ہے، جن میں روسی خام تیل اور دفاعی سازوسامان کی خریداری کے حوالے سے تحفظات شامل ہیں۔ تاہم، مذاکرات کی گنجائش باقی ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ستمبر یا اکتوبر تک تجارتی معاہدہ طے پا سکتا ہے۔
بھارتی برآمد کنندگان اور امریکی منڈیوں پر انحصار کرنے والی بھارتی کمپنیوں کے لیے ٹیرف میں اضافہ منافع میں کمی کا سبب بن سکتا ہے۔ وجے ویلیچا کے مطابق، این آر آئیز جنہوں نے آئی ٹی، فارما اور مینوفیکچرنگ جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے، انہیں بھی قلیل مدتی دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے۔
سینچری فنانشل کے مطابق، امریکی منڈیوں پر انحصار کرنے والی بھارتی کمپنیوں کی مارکیٹ ویلیو اپنے بینچ مارک انڈیکس سے 16 فیصد کم ہو چکی ہے۔ تاہم، ویلیچا نے طویل المدتی بنیادوں پر بھارتی معیشت کے مستحکم ہونے کی امید ظاہر کی ہے۔
وجے ویلیچا نے کہا کہ 25 فیصد ٹیرف کے نفاذ سے بھارتی مصنوعات امریکی مارکیٹ میں مہنگی ہو جائیں گی، جس سے خاص طور پر ٹیکسٹائل، آٹو پارٹس اور صارفین کی اشیاء کے شعبے متاثر ہوں گے۔ برآمد کنندگان ممکنہ طور پر ان اضافی اخراجات کو خود برداشت کریں گے تاکہ قیمتوں میں اضافہ نہ ہو اور وہ مارکیٹ میں مسابقت برقرار رکھ سکیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر امریکی خریدار سستی متبادل مصنوعات کی جانب متوجہ ہو گئے تو بھارتی برآمد کنندگان کو نئے بازار تلاش کرنے یا اپنی سپلائی چین کو دوبارہ ترتیب دینے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔






