
خلیج اردو
دبئی:دبئی پولیس نے اپریل 2024 کے سیلاب میں شدید متاثر ہونے والی ایک پیٹرول کار کو ضائع کرنے کے بجائے مصنوعی ذہانت کی مدد سے ایک جدید تربیتی سمیلیٹر میں تبدیل کر دیا ہے، جو جلد ہی عوامی مقامات جیسے شاپنگ مالز میں تجرباتی مقاصد کے لیے نصب کی جائے گی۔
یہ انوکھا منصوبہ دبئی پولیس کے پائیداری اہداف کے تحت عمل میں آیا۔ ورلڈ پولیس سمٹ کے دوران، جو 13 سے 15 مئی تک جاری ہے، دبئی پولیس نے اس گاڑی کو پیش کیا۔
پولیس افسر کے مطابق، ’’یہ سمیلیٹر صرف تربیت تک محدود نہیں بلکہ ایک مکمل بیہیویئر فیڈ بیک سسٹم ہے جو افسران کو ہنگامی حالات، جیسے کہ ٹریفک حادثات، میں شہریوں اور افسران کی سلامتی کو اولین ترجیح دینے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے ڈرائیونگ رویوں کا تجزیہ کیا جاتا ہے تاکہ پیٹرولنگ کی حقیقی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔‘‘
یہ سمیلیٹر ‘غیاث’ نامی گاڑی سے تیار کیا گیا، جسے ٹرانسپورٹ اینڈ ریسکیو ڈیپارٹمنٹ نے جدید AI ٹیکنالوجی سے دوبارہ کارآمد بنایا۔
ورلڈ پولیس سمٹ میں اس سال 130 سے زائد بین الاقوامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے رہنما اور 300 سکیورٹی ماہرین شرکت کر رہے ہیں، جہاں مصنوعی ذہانت، سمارٹ ٹیکنالوجیز اور پولیسنگ میں پائیداری پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
دبئی پولیس نے سمیلیٹر کے ساتھ ساتھ اپنے پیٹرول بیڑے میں 2025 ڈیفینڈر ماڈل بھی متعارف کرایا، جو شہری اور حکمت عملی سے متعلقہ حالات میں پولیس کی چابک دستی اور صلاحیت کو مزید بہتر بنانے کی مثال ہے۔
بحری سیکیورٹی میں انقلابی قدم
دبئی پولیس نے اپنی بحری سلامتی میں بھی نئی جدت لاتے ہوئے ‘حداد’ نامی پہلا مکمل طور پر الیکٹرک اور خودکار نگرانی جہاز پیش کیا ہے۔
پروجیکٹ منیجر لیفٹیننٹ انجینئر راشد خالد شاہ نے بتایا، ’’یہ جہاز دبئی کے بحری آپریشنز میں انقلاب برپا کرے گا۔ یہ زیر آب سرگرمیوں کی نگرانی، کشتیوں کے نمبر پلیٹ اسکین کرنے اور سات میٹر کے فاصلے پر موجود تیراکوں کا پتہ لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔‘‘
حداد کو پورٹس پولیس اسٹیشن سے ریموٹ کنٹرول کیا جاتا ہے اور یہ 12 گھنٹے تک کام کر سکتا ہے، جس کی حد 16 ناٹیکل میل ہے۔ یہ مکمل خود مختاری کے ساتھ کام کرتا ہے اور مستقبل میں ڈرون ڈاکنگ اور ریسکیو آلات کی تنصیب کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
شاہ کے مطابق، آزمائشی مراحل میں یہ ثابت ہوا کہ اب ایک افسر تین جہازوں کو بیک وقت سنبھال سکتا ہے، جس سے عملے کی ضرورت کم ہو گئی ہے اور پولیس اہلکار زیادہ تکنیکی اور حکمت عملی کے امور پر توجہ دے سکیں گے۔







