
خلیج اردو
ابوظہبی:متحدہ عرب امارات نے بلیو ریزیڈنسی ویزا کے خواہشمند غیر ملکیوں کو سہولت فراہم کرتے ہوئے 180 دن کا ملٹی انٹری پرمٹ جاری کر دیا ہے، جس کے تحت وہ بلیو ریزیڈنسی کے تمام طریقہ کار مکمل کر سکتے ہیں۔ یہ اعلان وفاقی ادارہ برائے شناخت، شہریت، کسٹمز اور پورٹ سیکیورٹی کی جانب سے کیا گیا۔
امارات الیوم کے مطابق، یہ پرمٹ اُن غیر ملکیوں کے لیے متعارف کرایا گیا ہے جو یو اے ای سے باہر مقیم ہیں اور ماحولیات کے تحفظ، پائیداری اور صاف و قابل تجدید توانائی میں نمایاں خدمات انجام دے چکے ہیں۔
بلیو ریزیڈنسی یو اے ای کا پہلا 10 سالہ طویل مدتی ویزا ہے جو ماحولیاتی تحفظ کے شعبے میں غیر معمولی خدمات انجام دینے والوں کو دیا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق، درج ذیل افراد اس ویزا کے لیے اہل ہیں:
ماحولیاتی شعبوں میں مثبت اثر رکھنے والے نمایاں اثر انداز شخصیات
یو اے ای کونسل آف سائنٹسٹس کی توثیق شدہ سائنسدان اور محققین
ماحولیاتی شعبوں میں سرگرم سرمایہ کار اور کاروباری افراد
سرکاری یا نجی ماحولیاتی اداروں میں کام کرنے والے موجد، اختراع کار اور ماہرین
اس سے قبل یہ سہولت یو اے ای گولڈن ویزا کے درخواست گزاروں کو بھی فراہم کی جا چکی ہے، جس کے تحت انہیں 6 ماہ کا قابل توسیع پرمٹ دیا جاتا تھا تاکہ وہ 10 سالہ ریزیڈنسی کے عمل کو مکمل کر سکیں۔
درخواست کا طریقہ کار
درخواست دہندگان یہ پرمٹ آئی سی پی کی ویب سائٹ یا UAEICP موبائل ایپ کے ذریعے حاصل کر سکتے ہیں۔
درخواست کا عمل محض پانچ مراحل پر مشتمل ہے اور سات منٹ میں مکمل ہو جاتا ہے:
ذاتی معلومات درج کرنا
مطلوبہ دستاویزات جیسے کہ کم از کم چھ ماہ تک کارآمد پاسپورٹ، ذاتی تصویر، اور اہلیت کا ثبوت اپ لوڈ کرنا
فیس کی ادائیگی
درخواست جمع کرانا
تمام دستاویزات کی تصدیق کے بعد ایک ورکنگ ڈے میں سروس مکمل کر دی جاتی ہے۔
یہ اقدام فروری میں ورلڈ گورنمنٹ سمٹ کے دوران بلیو ریزیڈنسی کی پہلی کھیپ کے بعد سامنے آیا، جب 20 نمایاں ماحولیاتی ماہرین کو یہ ویزا دیا گیا تھا۔ یہ یو اے ای کی اس وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت ملک خود کو عالمی سطح پر ماحولیاتی قیادت اور اختراع کے مرکز کے طور پر پیش کر رہا ہے، جیسا کہ پہلے گولڈن اور گرین ریزیڈنسی پروگرامز متعارف کروائے گئے تھے۔







