متحدہ عرب امارات

یہ خبر آپ کیلئے تکلیف دہ ہو سکتی ہے، راس الخیمہ میں ٹریفک تنازع پر فائرنگ، ماں اور دو بیٹیاں جاں بحق

خلیج اردو
راس الخیمہ:راس الخیمہ میں ٹریفک تنازع کے نتیجے میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں ایک ماں اور اس کی دو بیٹیاں فائرنگ کے واقعے میں جاں بحق ہو گئیں۔ جاں بحق ہونے والی خواتین کی عمریں 35، 38 اور 66 برس تھیں اور تینوں مائیں تھیں۔

راس الخیمہ پولیس کے مطابق انہیں رہائشی علاقے میں فائرنگ کی اطلاع موصول ہوئی، جس پر فوری طور پر گشت پر موجود یونٹس کو روانہ کیا گیا۔ پولیس ٹیمیں پانچ منٹ کے اندر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور ملزم کو موقع پر گرفتار کر لیا۔

مہیر سالم وفائی، جو مقتول خواتین کے بھائی اور 66 سالہ مقتولہ کے بیٹے ہیں، نے بتایا کہ ان کی والدہ اپنی چار بیٹیوں کے ساتھ گاڑی میں تھیں جب ایک شخص کے ساتھ پارکنگ کے تنازع پر جھگڑا ہوا جو جان لیوا ثابت ہوا۔ مقامی اخبار "امارات الیوم” کے مطابق ملزم نے اشتعال میں آ کر اسلحہ نکالا اور خواتین پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔
فائرنگ کے نتیجے میں 35 اور 38 سالہ بہنیں موقع پر جاں بحق ہو گئیں جبکہ 47 سالہ بہن شدید زخمی ہو کر اسپتال میں زیر علاج ہے۔ زخمی بہن نے ہوش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے 11 سالہ بیٹے کو فون تھما کر فرار ہونے اور مدد طلب کرنے کی ہدایت کی، جس کے باعث پولیس بروقت پہنچ کر کارروائی کر سکی۔ واقعے میں چوتھی بہن، 30 سالہ، محفوظ رہی۔

متاثرہ خاندان گزشتہ 20 سال سے متحدہ عرب امارات میں مقیم ہے۔ مہیر وفائی نے کہا کہ یہ واقعہ ان کے لیے صدمہ ہے لیکن انہیں ملک کے عدالتی نظام پر مکمل اعتماد ہے۔ "ہم نے یو اے ای میں ہمیشہ امن و امان دیکھا ہے، یہ ایک انفرادی مجرمانہ فعل ہے جو اس معاشرے کی نمائندگی نہیں کرتا۔”

پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق واقعہ ایک تنگ گلی میں راستہ دینے کے تنازع سے شروع ہوا جو افسوسناک انجام پر منتج ہوا۔ پولیس نے واردات میں استعمال ہونے والا اسلحہ ضبط کر لیا ہے اور کیس کو قانونی کارروائی کے لیے پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ روزمرہ معاملات میں صبر و تحمل اور ضبط نفس کا مظاہرہ کریں۔ حکام نے یاد دہانی کرائی کہ یو اے ای میں غیر قانونی اسلحہ رکھنے پر سخت پابندی عائد ہے اور لائسنس کے بغیر اسلحہ رکھنے، لانے، لے جانے، مرمت کرنے اور فروخت کرنے پر زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ ہے۔

لائسنس صرف مخصوص شرائط کے تحت دیے جاتے ہیں اور اسلحے کو مخصوص مقامات جیسے سرکاری اداروں، عسکری تنصیبات یا دیگر ممنوعہ جگہوں پر لے جانے کی اجازت نہیں۔ صرف سیکیورٹی اداروں اور مسلح افواج کے اہلکاروں کو مخصوص حالات میں اسلحہ رکھنے کی اجازت حاصل ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button