
خلیج اردو
دبئی میں نجی اسکولوں میں بچوں کے داخلے اور گریڈ یا کلاس کی تعیناتی کے حوالے سے نئے قواعد نافذ ہوگئے ہیں۔ دبئی کی نالج اینڈ ہیومن ڈیولپمنٹ اتھارٹی یعنی KHDA کی نئی گائیڈ کے مطابق بچے کی عمر، سابقہ اسکول ریکارڈ اور انفرادی تعلیمی ضروریات طے کریں گی کہ اسے کس گریڈ یا سال میں داخلہ دیا جائے گا۔
نئے قواعد 2026-27 کے تعلیمی سال سے دبئی کے تمام نجی اسکولوں اور ارلی چائلڈ ہڈ سینٹرز پر لاگو ہیں۔ یہ قواعد Pre-KG سے Grade 9 یا FS1 سے Year 10 تک طلبہ کی پلیسمنٹ کا احاطہ کرتے ہیں اور بیرون ملک سے آنے والے بچوں، تعلیمی سال کے دوران اسکول تبدیل کرنے والے طلبہ اور گریڈ تبدیل کرنے کی درخواست دینے والے بچوں پر بھی لاگو ہوں گے۔
نئے عمر کے معیار کیا ہیں؟
ستمبر میں تعلیمی سال شروع کرنے والے اسکولوں میں بچے کی مطلوبہ عمر 31 دسمبر تک مکمل ہونا ضروری ہے جبکہ اپریل میں تعلیمی سال شروع کرنے والے اسکولوں کے لیے عمر کی حد 31 مارچ ہوگی۔
ستمبر سے شروع ہونے والے اسکولوں میں عمر کی بنیادی حد یہ ہے:
- 3 سال: Pre-KG یا FS1
- 4 سال: KG1 یا FS2
- 5 سال: KG2 یا Year 1
- 6 سال: Grade 1 یا Year 2
اگر بچہ مقررہ تاریخ تک مطلوبہ عمر کو نہیں پہنچتا تو اسے متعلقہ گریڈ میں داخلہ نہیں دیا جاسکتا چاہے وہ عمر کی حد سے صرف چند دن ہی کم کیوں نہ ہو یا اس نے کسی دوسرے ملک میں وہ گریڈ مکمل کیا ہو۔
چھوٹے بچوں کے لیے عمر بنیادی معیار
Pre-KG سے KG2 یا FS1 سے Year 1 تک عمر بچے کی پلیسمنٹ کا بنیادی اور حتمی معیار ہوگی۔
Grade 1 یا Year 2 اور اس سے اوپر کے طلبہ کے لیے Transfer Certificate یعنی TC بنیادی حوالہ ہوگا۔ اگر TC میں درج گریڈ اور متحدہ عرب امارات کے عمر کے چارٹ میں فرق ہو تو اسکول کو داخلہ حتمی کرنے سے پہلے KHDA کو مطلع کرنا ہوگا۔
2026-27 کے لیے محدود عبوری سہولت
نئے قواعد پہلی مرتبہ KHDA سسٹم میں رجسٹر ہونے والے بچوں پر لاگو ہوں گے۔ 2026-27 کے لیے یکم ستمبر سے 31 دسمبر 2022 کے درمیان پیدا ہونے والے اور اس وقت کسی اسکول یا نرسری میں داخل نہ ہونے والے بعض بچوں کے والدین اور اسکول باہمی رضامندی سے FS1 یا FS2 میں سے موزوں کلاس کا انتخاب کرسکتے ہیں۔
یہ سہولت محدود اور عبوری نوعیت کی ہے جبکہ 2027-28 سے نئے داخلوں کے لیے نظرثانی شدہ عمر کے اصول مکمل طور پر لاگو ہوں گے۔
بیرون ملک سے دبئی آنے والے بچوں کے لیے کیا ہوگا؟
بیرون ملک سے آنے والے بچے عمر کے مطابق مناسب گریڈ میں داخلہ لے سکتے ہیں چاہے ان کے سابقہ ملک میں باقاعدہ تعلیم دیر سے شروع ہوتی ہو۔
اگر بچے کو زبان، خواندگی یا ریاضی میں اضافی مدد درکار ہو تو اسکول کو اسے تعلیمی معاونت فراہم کرنا ہوگی۔ صرف اس بنیاد پر کہ بچے نے اپنے سابقہ ملک میں کم عرصہ رسمی تعلیم حاصل کی ہے اسے کم گریڈ میں منتقل نہیں کیا جائے گا۔
کیا بچہ گریڈ چھوڑ کر آگے جاسکتا ہے؟
عمر کے اعتبار سے بچوں کو عام طور پر ان کے متعلقہ گریڈ میں رکھا جائے گا۔ Grade 1 یا Year 2 سے اوپر Transfer Certificate کسی بچے کو اس کی عمر سے زیادہ گریڈ میں رکھنے کی بنیاد بن سکتا ہے۔
اگر TC کے مطابق بچہ UAE کے عمر کے چارٹ سے ایک سال سے زیادہ آگے ہو تو اسکول کو KHDA کو مطلع کرنا ہوگا اور غیر معمولی پلیسمنٹ کے لیے منظوری درکار ہوگی۔
کیا بچے کو ایک سال پیچھے کیا جاسکتا ہے؟
KHDA کے مطابق بچے کو صرف کم نمبرز، تعلیمی خلا یا دیر سے اسکول شروع کرنے کی بنیاد پر عام طور پر پیچھے نہیں رکھا جاسکتا۔
غیر معمولی صورت میں کم گریڈ کی منظوری کے لیے اسکول کو مسلسل تعلیمی معاونت کا ریکارڈ، پیشہ ورانہ تشخیص اور یہ ثبوت فراہم کرنا ہوگا کہ بچہ موجودہ گریڈ کی تعلیم حاصل کرنے سے قاصر ہے۔ حتمی طور پر KHDA کی تحریری منظوری ضروری ہوگی۔
صرف عمر کی پختگی یا انگریزی نہ آنے پر گریڈ کم نہیں ہوگا
بچے کو صرف اس لیے کم گریڈ میں نہیں رکھا جاسکتا کہ وہ ذہنی یا جذباتی طور پر اپنی عمر کے بچوں کی نسبت کم mature ہے۔
اسی طرح صرف انگریزی زبان سے ناواقفیت بھی کم گریڈ میں داخلے کی قابل قبول وجہ نہیں۔ ایسے بچوں کو English as an Additional Language سمیت اضافی تعلیمی مدد فراہم کی جائے گی۔
تعلیمی سال کے دوران اسکول تبدیل کرنے والوں کے لیے بھی یہی اصول
Mid-year transfer کی صورت میں بھی عمر اور Transfer Certificate کے یہی قواعد لاگو ہوں گے۔
Grade 1 یا Year 2 اور اس سے اوپر TC بنیادی حوالہ ہوگا جبکہ چھوٹی کلاسوں میں عمر کو بنیادی معیار بنایا جائے گا۔ اگر ریکارڈ دستیاب نہ ہو تو اسکول عمر کی بنیاد پر عارضی پلیسمنٹ کرکے داخلی جائزہ اور سپورٹ پلان تیار کرسکتا ہے جبکہ مکمل معلومات دستیاب ہونے تک بچے کی تعلیمی ضروریات کا جائزہ لیا جائے گا۔
KHDA کے مطابق کسی بچے کو صرف اس بنیاد پر ایک سال پیچھے نہیں کیا جاسکتا کہ اس کا Transfer Certificate نامکمل ہے۔ اسکول کو پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ بچے نے کیا سیکھا ہے، کون سا نصاب رہ گیا ہے اور آیا وہ اگلے گریڈ کی تعلیم حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔






