
خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں مقیم والدین کو تعلیمی سال 2025-26 کے لیے اسکول فیسوں میں اضافے کے نوٹیفکیشن موصول ہونا شروع ہو گئے ہیں، جس کے تحت کچھ اسکولوں میں معمولی اضافہ ہوا ہے جبکہ کچھ پریمیم اسکولوں میں ایک بچے کی سالانہ فیس 5 ہزار درہم تک بڑھ گئی ہے۔
دبئی میں قائم نالج اینڈ ہیومن ڈویلپمنٹ اتھارٹی (KHDA) نے رواں سال مئی میں ایجوکیشن کاسٹ انڈیکس (ECI) کی شرح 2.35 فیصد مقرر کی تھی، جس کے مطابق منافع بخش نجی اسکول اپنی کارکردگی کی درجہ بندی اور ECI کے مطابق فیس میں اضافہ کر سکتے ہیں۔
فیسوں میں اضافے کے بعد کچھ والدین پورے سال کی فیس یکمشت ادا کرنے کا انتخاب کر رہے ہیں تاکہ چھوٹ حاصل کی جا سکے، جبکہ دیگر کم فیس والے اسکولوں کی تلاش میں ہیں۔
القصیص میں قائم برٹش سلیبس اسکول میں پڑھنے والے محمد اقبال کے بچوں کی فیس میں سالانہ 1,200 درہم کا اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا، "میں اس سے زیادہ اضافے کی توقع کر رہا تھا، اس لیے خوشی ہے کہ یہ قابلِ برداشت ہے۔”
الکوز کے ایک انڈین اسکول میں زیر تعلیم بچوں کی والدہ منال نے بتایا کہ ان کے دونوں بچوں کی مجموعی سالانہ فیس میں صرف 400 درہم کا اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا، "ہم نے پہلے ہی بجٹ بنا رکھا تھا، اس لیے یہ بوجھ محسوس نہیں ہوا۔”
دوسری جانب جرمن والدہ گریٹا، جن کے تین بچے جمیرہ کے برٹش اسکول میں زیر تعلیم ہیں، نے بتایا کہ ان کے اسکول نے ہر بچے کی فیس میں 2,000 درہم کا اضافہ کیا ہے، جس سے ان پر سالانہ 6,000 درہم کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ انہوں نے کہا، "ہمیں فیس میں اضافے کی تکلیف ضرور محسوس ہو رہی ہے، مگر اسکول تبدیل کرنا فی الحال ممکن نہیں۔”
اسی طرح بھارتی نژاد ویوک، جن کے بچے ایک پریمیم اسکول میں زیر تعلیم ہیں، نے بتایا کہ ان کے بچوں کی مجموعی سالانہ فیس 87,000 سے 92,000 درہم کے درمیان ہے، اور اس بار 10,000 درہم کا اضافہ متوقع تھا، مگر یکمشت ادائیگی پر اسکول نے رعایت دی، جس سے اضافی بوجھ 3,000 درہم تک محدود رہا۔
ایک اور والدہ، جنہوں نے اپنا تعارف ام محمد کے طور پر کروایا، نے بتایا کہ انہوں نے پہلے ہی مہنگے اسکول سے بیٹی کو نکال کر ایک سستی اور معیاری اسکول میں منتقل کر دیا تھا۔ اب وہ صرف 30,000 درہم میں مکمل سالانہ اخراجات برداشت کر رہی ہیں، جس میں فیس، کتابیں اور یونیفارم شامل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، دبئی میں اس وقت 227 نجی اسکول ہیں جہاں 185 قومیتوں سے تعلق رکھنے والے 3 لاکھ 87 ہزار سے زائد طلباء زیر تعلیم ہیں۔ تعلیمی سال 2023-24 میں طالبعلموں کے اندراج میں 12 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔





