متحدہ عرب امارات

یو اے ای میں شدید گرمی کے باعث بجلی کے بلوں میں ہوشربا اضافہ، شہری پریشان

خلیج اردو
دبئی:متحدہ عرب امارات میں درجہ حرارت 40 سے 50 ڈگری سیلسیئس تک پہنچنے کے ساتھ ہی شہریوں کو بجلی کے بھاری بھرکم بلوں کا سامنا ہے۔ دبئی، شارجہ اور ابوظہبی کے رہائشیوں نے شکایت کی ہے کہ ان کے بجلی کے بل موسم سرما یا بہار کے مقابلے میں دگنے یا بعض صورتوں میں تین گنا زیادہ ہو گئے ہیں۔ شہریوں کے مطابق یہ اضافہ ایئر کنڈیشنرز کے طویل استعمال، کولنگ کی بڑھتی ہوئی ضرورت اور روزمرہ گھریلو آلات جیسے واشنگ مشین، استری اور مائیکروویو اوون کے زیادہ استعمال کی وجہ سے ہوا ہے۔

النہدہ، دبئی میں مقیم بھارتی شہری شیام ایس نے بتایا کہ ان کا ڈیوا بل موسم سرما میں 350 سے 400 درہم ہوتا تھا جو گزشتہ ماہ بڑھ کر 927 درہم تک جا پہنچا۔ ان کے مطابق اگرچہ روزمرہ معمولات میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی، مگر گرمی کی شدت کے باعث ایئر کنڈیشنر کا استعمال مسلسل بڑھ گیا ہے۔

ابوظہبی کے ہمدان اسٹریٹ پر مقیم فاطمہ کے مطابق ان کا بل صرف دو ماہ میں 450 سے بڑھ کر 1,100 درہم ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موسم سرما میں پنکھے یا کھڑکیاں کھول کر گزارہ ہو جاتا تھا، مگر اب مسلسل مرکزی کولنگ کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے ڈش واشر کے استعمال میں کمی کی ہے اور فریج میں زیادہ خوراک محفوظ رکھنے کی ضرورت بھی بڑھ گئی ہے۔

التاون، شارجہ کے رہائشی مصری شہری محمد عمر نے کہا کہ ان کے اپارٹمنٹ میں مرکزی اے سی ہے جس میں ہر کمرے کا علیحدہ کنٹرول نہیں، جس کے باعث پورا فلیٹ ٹھنڈا کرنا پڑتا ہے۔ مارچ میں ان کا بل 310 درہم تھا جو مئی میں بڑھ کر 780 درہم ہو گیا۔ وہ اب ایسے اپارٹمنٹ کی تلاش میں ہیں جہاں ہر کمرے کے لیے علیحدہ اے سی کنٹرول موجود ہو۔

نیشنل سینٹر آف میٹرولوجی کے مطابق مئی 2025 گزشتہ بیس برسوں میں سب سے زیادہ گرم مہینہ رہا۔ اس ماہ کا اوسط زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 40.4 ڈگری سیلسیئس ریکارڈ کیا گیا جو کہ 2003 سے 2024 کے درمیانی عرصے کے اوسط 39.2 ڈگری سیلسیئس سے زیادہ ہے۔

ڈیوا نے رہائشیوں کو بجلی کے بلوں میں کمی لانے کے لیے چند مفید مشورے بھی دیے ہیں۔ ان میں ترموسٹیٹ کو 24 ڈگری پر رکھنا، اے سی فلٹرز کی باقاعدہ صفائی، دروازے اور کھڑکیاں بند رکھنا، پنکھوں کا استعمال، اور اسمارٹ ترموسٹیٹ کی تنصیب شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایل ای ڈی بلب کا استعمال، قدرتی روشنی سے فائدہ اٹھانا، غیرضروری آلات کو پلگ سے نکال دینا، اور مکمل لوڈ کے ساتھ مشینیں چلانا بھی بجلی کی بچت میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

شدید گرمی کی لہر میں جہاں رہائشی افراد کا سکون متاثر ہو رہا ہے، وہیں بڑھتے ہوئے بجلی کے بل ان کے مالی معاملات پر بھی دباؤ ڈال رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بجلی کی بچت کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تو گرمیوں میں اس اضافی بوجھ کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button