
خلیج اردو
دبئی – 30 جون 2025ء
ایک نئی تحقیق کے مطابق، دبئی اور شارجہ میں ہر 10 میں سے 9 ڈرائیورز روزانہ ٹریفک جام کا سامنا کرتے ہیں۔ "روڈ سیفٹی یو اے ای” اور "الوَثبہ نیشنل انشورنس” کی جانب سے جاری کردہ اس مطالعے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دبئی میں 91 فیصد اور شارجہ میں 90 فیصد ڈرائیورز نے روزمرہ کی بنیاد پر ٹریفک جام کی شکایت کی۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ 80 فیصد افراد نے گزشتہ برس کے مقابلے میں رواں سال ٹریفک میں اضافے کی تصدیق کی، جبکہ دبئی میں یہ شرح 85 فیصد تک جا پہنچی۔
ماہرین کے مطابق ٹریفک میں اضافے کی بڑی وجہ ملک کی آبادی میں تیزی سے ہونے والا اضافہ ہے۔ 2020 میں یو اے ای کی آبادی 94 لاکھ تھی جو اب بڑھ کر 1 کروڑ 13 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ دبئی کی آبادی تقریباً 40 لاکھ ہو گئی ہے، جو کہ اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔
مارچ 2025 میں فیڈرل نیشنل کونسل کے رکن ڈاکٹر عدنان الحَمّادی نے دبئی اور شارجہ کے درمیان روزانہ ٹریفک جام کا مسئلہ اٹھایا، اور اس کے نفسیاتی اثرات پر تشویش کا اظہار کیا۔
تحقیق میں شہریوں نے سب سے زیادہ ٹریفک دوپہر کے وقت، پھر صبح دفتر جانے اور اسکول ڈراپ کے دوران محسوس کی۔ اس کے بعد ہفتہ وار خریداری، اسکول پک اپ اور دیگر امور شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ٹریفک کے بڑھنے کی وجوہات میں نجی گاڑیوں پر انحصار، تمام دفاتر اور اسکولوں کے ایک ہی وقت پر کھلنے، سڑک پر بہت زیادہ گاڑیوں کی موجودگی اور غیر مناسب ڈرائیونگ رویہ شامل ہیں۔ عوام نے اس کے حل کے لیے ہوم آفس کے فروغ، پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کی بہتری اور سڑکوں کے جال کو وسعت دینے کی تجاویز دی ہیں۔







