متحدہ عرب امارات

البرشاء میں آگ سے متاثرہ عمارت سیل، متاثرین کی مدد کیلئے اجنبیوں کا جذبۂ ہمدردی

خلیج اردو
دبئی: دبئی کے البرشاء علاقے میں الزرعونی بلڈنگ میں منگل کی رات لگنے والی آگ کے بعد عمارت کو سیل کر دیا گیا ہے اور مکینوں کو دوستوں اور اجنبیوں کی مدد پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔

آگ کا واقعہ گراؤنڈ فلور پر واقع ایک ریسٹورنٹ میں گیس لیکج کے باعث پیش آیا جس کی وجہ سے سینکڑوں مکینوں کو رات کے وقت اپنی رہائش گاہیں خالی کرنی پڑیں۔ متاثرین کو اب بھی یہ نہیں معلوم کہ وہ کب واپس اپنے گھروں میں جا سکیں گے، لیکن دوستوں اور اجنبیوں کی جانب سے انہیں کھانا اور پناہ فراہم کی جا رہی ہے۔

29 سالہ فلپائنی سیلز ایگزیکٹو روبن، جو بارہویں منزل پر رہتے ہیں، رات کے وقت صرف موبائل فون لے کر نکلے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس جوتے تک نہیں تھے اور اب وہ قریبی مال یا پارکنگ ایریاز میں وقت گزار رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، "یہ مثالی حالات نہیں ہیں، لیکن ہم محفوظ ہیں اور لوگ ہماری مدد کر رہے ہیں۔”

روبن کے مطابق ایک اجنبی نے انہیں ناشتہ فراہم کیا جبکہ ان کے کزن کے کام کرنے والے ریسٹورنٹ نے دوپہر کا کھانا دیا۔

ادھر بھارتی تارکین وطن اوسوین نے بتایا کہ وہ کام پر جا رہے تھے جب دھماکے کی آواز سنی۔ "میں جوس خرید رہا تھا جب ایک زور دار دھماکہ ہوا، میں باہر نکلا اور عمارت کو جلتے دیکھا۔ یہ بڑا ہنگامہ خیز منظر تھا۔ خوش قسمتی سے میرے روم میٹس محفوظ ہیں اور دوستوں کے ہاں پناہ لے لی ہے۔”

کیمیرون سے تعلق رکھنے والی کیرن نے بتایا کہ انہوں نے دھماکے کو زلزلے جیسا محسوس کیا اور سب کے ساتھ باہر نکل آئیں۔ "اب میں باہر انتظار کر رہی ہوں کہ کب ہمیں واپس جانے کی اجازت ملے گی۔”

دسوی منزل کے رہائشی راج اس وقت گھر پر نہیں تھے جب آگ لگی۔ انہوں نے بتایا، "میں نے خبر دیکھی تو فوراً واپس آیا لیکن داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی۔ مجھے نئے کپڑے خریدنے اور کام کے لیے لیپ ٹاپ ادھار لینا پڑا۔ میری سب سے بڑی فکر اپنے پاسپورٹ کی ہے جو اپارٹمنٹ میں دراز میں رکھا ہے۔ مجھے امید ہے کہ پرواز سے پہلے یہ مل جائے گا۔”

بلڈنگ انتظامیہ کی جانب سے اب تک کوئی حتمی اطلاع نہیں ملی، لیکن مکین امید لگائے بیٹھے ہیں۔ اوسوین نے کہا، "ابھی دوستوں پر انحصار کر رہا ہوں، ہم نہیں جانتے کب واپس جا سکیں گے، لیکن ہم ان حالات کا سامنا کر لیں گے۔”

تحقیقات جاری ہیں اور متاثرین کو امید ہے کہ جلد ہی صورتحال بہتر ہو جائے گی اور وہ اپنے گھروں کو لوٹ سکیں گے۔ فی الحال، وہ اجنبیوں اور دوستوں کی مدد سے گزر بسر کر رہے ہیں اور بہتر مستقبل کی امید پر قائم ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button