
خلیج اردو
مصر کی دمیاطہ بندرگاہ کے ایل این جی ٹرمینل میں بدھ کی شام کارگو اتارنے کے دوران دھماکا ہوا جس کے بعد دو گیس بردار جہازوں میں آگ لگ گئی۔
میری ٹائم سیکیورٹی فرم ایمبری کے مطابق ابتدائی جائزے میں ایک ڈرون کے ذریعے امریکی ملکیت کے گیس اسٹوریج ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ حملے کے بعد عملے کو بحفاظت نکال لیا گیا جبکہ آگ پر قابو پالیا گیا۔ تاحال کسی گروپ یا فریق نے واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
شپنگ سروسز کمپنی اِنچ کیپ کے مطابق مقامی حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے صورتحال پر قابو پالیا اور متاثرہ جہازوں کو بحفاظت بندرگاہ سے باہر منتقل کردیا گیا۔ دیگر برتھس اور ٹرمینلز پر بندرگاہی سرگرمیاں رات کے وقت دوبارہ شروع ہونے کی توقع ہے۔
ذرائع کے مطابق ڈرون نے فلوٹنگ اسٹوریج ٹینکر انرگوس ونٹر کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں آگ لگی اور بعد ازاں یہ آگ دوسرے جہاز گیس لاگ سیلم تک پھیل گئی۔ سیکیورٹی ذرائع نے بھی دھماکے کی وجہ ڈرون حملہ قرار دی ہے۔
مصر کی وزارت پیٹرولیم کے مطابق آگ ری گیسیفکیشن یونٹ میں لگی تاہم واقعے میں کوئی شخص زخمی یا ہلاک نہیں ہوا۔
وزیر پیٹرولیم و معدنی وسائل انجینئر کریم بدوی نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے امدادی اور حفاظتی اقدامات کی نگرانی کی۔
وزارت کے مطابق ہنگامی اور فوری ردعمل کے منصوبوں کے تحت صورتحال پر فوری قابو پالیا گیا۔ حکام نے میڈیا اور سوشل میڈیا صارفین سے اپیل کی ہے کہ وہ واقعے سے متعلق معلومات کے لیے صرف وزارت کی جانب سے جاری سرکاری بیانات پر انحصار کریں۔







