متحدہ عرب امارات

دبئی: جانیے درزی نے کیسے انجنیئر بن کر بینک سے کریڈٹ کارڈ حاصل کیا اور پھر ہزاروں درہم نکلوا لیے

 

خلیج اردو آن لائن:

دبئی کی ابتدائی عدالت کو سماعت کے دوران بتایا گیا کہ ایک ایشیائی باشندہ جو کہ پیشے کے اعتبار سے درزی ہے، اس نے بینک جعلی معلومات دے کر کریڈٹ کارڈ  حاصل کیا اور پھر اس سے 54 ہزار 764 درہم نکلوا لیے۔

پبلک پراسکیوشن کے ریکارڈ کے مطابق 39 سالہ ایشیائی باشندہ پیشے کے اعتبار سے درزی ہے اور اس نے بینک کو دھوکہ دے کر کریڈ کارڈ حاصل کیا اور پھر اس میں سے ایک دفعہ میں 19 ہزار 964 درہم اور دوسری بار میں 34 ہزار 800 درہم نکوائے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ اس نے جعلی رہائشی ویزا بنایا اور پھر اس میں اپنا پیشہ ایک پٹرولیم کمپنی میں انجنیئر دکھایا۔ مدعالیہ نے اس اپنی سیلری سلپ بھی جعلی بنایا جس میں اس کی تنخواہ 17 ہزار 425 درہم ماہانہ ہے۔

خیال رہے کہ اس یہ مقدمہ نومبر 2019 کا ہے جو الرشیدیہ پولیس تھانے میں درج کیا گیا تھا۔

اور یہ مقدمہ بینک کے ریجنل مینجر کی جانب سے درج کروایا گیا تھا۔ جس کے مطابق "مدعا علیہ نے بینک میں اپنا اکاؤنٹ کھلوایا اور پھر کریڈٹ کارڈ کے لیے آن لائن درخواست دی۔ اور درخواست میں کیش نکوانے کی بھی اجازت مانگی۔  اس نے اپنی درخواست کے ساتھ  تنخواہ کا سرٹیفکیٹ، پاسپورٹ کی کاپی، رہائشی ویزے کی کاپی اور دیگر دستاویزات جمع کروائیں”۔

مزید برآں، ضروری کاروائی کے لیے بینک کا ایک ملازم مدعا علیہ سے ملا اور کریڈٹ کارڈ کے لیے دو سیکیورٹی چیکوں پراس کے دستخظ لیے۔ بہرکیف، اس طرح سے ملزم اپنا بینک اکاؤنٹ کھلوانے اور کیش نکوالنے کی اجازت کے ساتھ کریڈٹ کارڈ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔

بینک مینجر نے تفشیشی کو بتایا کہ جب بینک نے پٹرولیم کمپنی سے مدعالیہ کی سیلری سرٹیفکیٹ کے بارے میں پوچھا تو کمپنی نے بتایا کہ ملزم انکے پاس کام نہیں کرتا ہے۔ اور آئی سی اے کی جانب سے ایک لیٹر میں بتایا گیا کہ ملزم کی جانب سے استعمال کی رہائشی ویزے کی کاپی جعلی ہے۔

تاہم مقدمے کا فیصلہ 22 ستمبر کو سنایا جائے گا۔

Source: Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button