
خلیج اردو
دبئی حکومت نے سرکاری ملازمین کے لیے گرمیوں کے دوران دوبارہ "آور فلیکسیبل سمر” منصوبہ متعارف کروا دیا ہے، جس کے بعد یہ بحث ایک بار پھر زور پکڑ گئی ہے کہ کیا متحدہ عرب امارات کا نجی شعبہ بھی مستقبل میں اسی طرز کا لچکدار ورکنگ ماڈل اختیار کرے گا۔
یہ منصوبہ 29 جون سے 10 ستمبر تک جاری رہے گا اور سرکاری اداروں کو دو مختلف اوقاتِ کار میں سے ایک اختیار کرنے کی اجازت دے گا تاکہ ملازمین کی فلاح و بہبود اور سرکاری خدمات دونوں کو برقرار رکھا جا سکے۔
پہلے ماڈل کے تحت ملازمین پیر سے جمعرات روزانہ سات گھنٹے جبکہ جمعہ کو ساڑھے چار گھنٹے کام کریں گے۔ دوسرے ماڈل میں پیر سے جمعرات آٹھ گھنٹے کام ہوگا جبکہ جمعہ مکمل تعطیل ہوگی۔
دبئی کے بیشتر سرکاری ملازمین پہلے ہی جمعہ دوپہر، ہفتہ اور اتوار پر مشتمل ڈھائی روزہ ہفتہ وار تعطیل سے مستفید ہوتے ہیں۔ نئے منصوبے کے بعد شریک سرکاری اداروں کے ملازمین گرمیوں میں مزید سہولت سے کام کر سکیں گے جبکہ عوامی خدمات بھی معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔
اس اعلان کے بعد نجی شعبے میں بھی ایسے ہی انتظامات کے امکانات پر گفتگو شروع ہوگئی ہے، تاہم کاروباری رہنماؤں اور بھرتی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مختلف صنعتوں کی ضروریات کے باعث نجی شعبے میں اس ماڈل کا وسیع پیمانے پر نفاذ فی الحال مشکل دکھائی دیتا ہے۔
ٹاسک آؤٹ سورسنگ کے گروپ چیئرمین مہیش شاہدادپوری کے مطابق یہ اقدام ورک پلیس میں لچک پر مزید بحث کو ضرور فروغ دے گا، لیکن ہر ادارے کے لیے مختصر ورک ویک عملی نہیں ہو سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ علم پر مبنی شعبے نسبتاً آسانی سے ایسے تجربات کر سکتے ہیں، جبکہ دیگر شعبوں میں صارفین کی توقعات، کام کی نوعیت، افرادی قوت اور مسلسل خدمات کی فراہمی جیسے عوامل فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔
جینی ریکروٹمنٹ کی منیجنگ ڈائریکٹر نکی ولسن نے کہا کہ یہ فیصلہ ہر ادارے کی ثقافت اور صنعت کے مطابق ہوگا۔ ان کے مطابق جو کمپنیاں ملازمین کی کارکردگی کو دفتر میں گزارے گئے وقت کے بجائے نتائج کی بنیاد پر جانچتی ہیں، وہ ایسے لچکدار ماڈلز اپنانے کے لیے زیادہ تیار ہو سکتی ہیں۔
مارک ایلس کنسلٹنگ اینڈ ٹریننگ کے ڈائریکٹر آوز اسماعیل کا کہنا ہے کہ ملازمین کی فلاح ضروری ہے، لیکن کاروباری کارکردگی اور صارفین کو فراہم کی جانے والی خدمات بھی متاثر نہیں ہونی چاہئیں۔ ان کے مطابق صرف مختصر ورک ویک متعارف کرانے سے کام کا بوجھ کم نہیں ہوتا، اس لیے کسی بھی نئے نظام کو احتیاط سے ترتیب دینا ہوگا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نجی کمپنیاں کام کے اوقات کم کرنے کے بجائے لچکدار آمد و رفت، ذہنی صحت کے پروگرام، ویلبینگ اقدامات، ہائبرڈ ورکنگ اور اضافی چھٹیوں جیسے متبادل طریقے اختیار کر سکتی ہیں تاکہ ملازمین کی اطمینان اور کاروباری ضروریات میں توازن برقرار رکھا جا سکے۔
اگرچہ سرکاری شعبے کے اس اقدام سے ملازمین کی توقعات میں اضافہ متوقع ہے، خاص طور پر نوجوان پیشہ ور افراد میں، تاہم ماہرین کے مطابق نجی شعبہ حکومتی ماڈل کی مکمل نقل کرنے کے بجائے ایسے لچکدار اور نتائج پر مبنی نظام اپنانے کو ترجیح دے گا جو کاروباری لحاظ سے بھی پائیدار ہوں۔
یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مستقبل کی ورک پلیس صرف چار روزہ ورک ویک تک محدود نہیں ہوگی بلکہ کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ادارے ملازمین کی فلاح، کام کی لچک اور کاروباری کارکردگی کے درمیان کس حد تک مؤثر توازن قائم کرتے ہیں۔







