
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات تیزی سے دنیا کے امیر ترین افراد، عالمی سرمایہ کاروں اور ارب پتی کاروباری شخصیات کی پسندیدہ رہائشی اور کاروباری منزل بنتا جا رہا ہے۔
فوربز مڈل ایسٹ کی تازہ درجہ بندی کے مطابق اس وقت یو اے ای میں 17 ارب پتی شخصیات مقیم ہیں، جن کا تعلق پانچ مختلف ممالک سے ہے اور ان کی دولت کرپٹو کرنسی، رئیل اسٹیٹ، تعلیم، لاجسٹکس، ریٹیل اور تعمیرات جیسے شعبوں سے وابستہ ہے۔
یو اے ای ارب پتیوں کو کیوں متوجہ کر رہا ہے؟
ماہرین کے مطابق متحدہ عرب امارات نے گزشتہ چند برسوں میں ایسا معاشی اور کاروباری ماحول بنایا ہے جو دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کے لیے انتہائی پرکشش بن چکا ہے۔
اہم وجوہات میں:
- ذاتی آمدنی پر ٹیکس نہ ہونا
- سرمایہ کار دوست ویزا اور رہائشی قوانین
- سیاسی استحکام
- لگژری رئیل اسٹیٹ مواقع
- عالمی فضائی رابطے
- کاروبار شروع کرنے میں آسانی
- محفوظ طرزِ زندگی اور جدید انفراسٹرکچر شامل ہیں۔
دبئی خاص طور پر ایشیا، یورپ، افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں کاروبار چلانے والے سرمایہ کاروں کے لیے مرکزی مرکز بنتا جا رہا ہے۔
یو اے ای میں سب سے امیر شخصیت کون؟
فہرست میں سرفہرست چانگ پینگ ژاؤ ہیں، جنہیں “سی زیڈ” کے نام سے جانا جاتا ہے۔
وہ کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس کے بانی ہیں اور ان کی دولت تقریباً 110 ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔
ان کی موجودگی اس بات کی علامت ہے کہ دبئی اور ابوظہبی اب کرپٹو، بلاک چین اور ڈیجیٹل فنانس کے عالمی مراکز بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔
نمایاں بھارتی نژاد ارب پتی
یو اے ای میں مقیم کئی بھارتی نژاد کاروباری شخصیات بھی ارب پتیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔
- ونود اڈانی — 20.8 ارب ڈالر
- ایم اے یوسف علی — 5.8 ارب ڈالر
- رینوکا جگتیانی — 5.6 ارب ڈالر
- روی پلئی — 4.2 ارب ڈالر
- سنی ورکے — 4 ارب ڈالر
- پی این سی مینن — 3.9 ارب ڈالر
- ڈاکٹر شمشیر وائیلیل — 3.7 ارب ڈالر تک
- کبیر ملچندانی — 2.2 ارب ڈالر
ریٹیل اور تعلیم کے شعبے کیوں نمایاں؟
یو اے ای کے ارب پتی صرف ٹیکنالوجی سے وابستہ نہیں بلکہ ریٹیل، تعلیم، تعمیرات اور رئیل اسٹیٹ جیسے شعبے بھی نمایاں ہیں۔
لولو گروپ اور لینڈ مارک گروپ جیسے اداروں نے خلیجی ممالک کی تیزی سے بڑھتی صارف مارکیٹ کے ساتھ ترقی کی۔
اسی طرح جیمز ایجوکیشن نے نجی تعلیم کے شعبے میں غیر معمولی توسیع حاصل کی۔
کیا دبئی دنیا کے امیر ترین شہروں میں شامل ہو رہا ہے؟
متعدد عالمی رپورٹس کے مطابق دبئی تیزی سے دنیا کے بڑے “ملینیئر سٹیز” میں شامل ہو رہا ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ سرمایہ کار دبئی کو اس لیے ترجیح دے رہے ہیں کیونکہ یہاں:
- سرمایہ کاری کے بہتر مواقع
- عالمی معیار کے اسکول اور اسپتال
- محفوظ ماحول
- پرتعیش طرزِ زندگی
- عالمی کاروباری رابطے موجود ہیں۔
عام شہریوں پر اس کا کیا اثر؟
معاشی ماہرین کے مطابق امیر افراد کی آمد سے:
- رئیل اسٹیٹ
- سیاحت
- بینکاری
- لگژری ریٹیل
- ٹیکنالوجی
- اسٹارٹ اپ سرمایہ کاری
جیسے شعبوں میں تیزی آتی ہے، تاہم اس سے جائیداد کی قیمتوں اور شہری ترقی پر بھی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ارب پتی صرف دولت کی علامت نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ متحدہ عرب امارات عالمی معیشت میں تیزی سے اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے۔







