متحدہ عرب امارات

اتحاد ریل مسافر ٹرین کے اندر کا سفر کیسا ہوگا؟ یو اے ای کے نئے ریلوے نظام کی دلچسپ جھلکیاں سامنے آگئیں

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں اتحاد ریل کے مسافر ٹرین منصوبے کی پہلی جھلک سامنے آگئی ہے، جہاں فجیرہ سے شروع ہونے والے خصوصی سفر میں جدید ٹرین، حسین مناظر اور پہاڑوں کے درمیان بنے طویل ٹنلز نے مسافروں کو متاثر کر دیا۔

اتحاد ریل کا یہ منصوبہ خطے کے پہلے بڑے جدید ریلوے نیٹ ورک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو مختلف امارات کو تیز رفتار ریل سروس کے ذریعے جوڑے گا۔

جدید اور خوبصورت اسٹیشن

فجیرہ اتحاد ریل اسٹیشن کا اسٹیشن کریم اور سرمئی رنگ کے جدید ڈیزائن پر مشتمل ہے، جہاں کشادہ پارکنگ، واضح رہنمائی بورڈز اور مسافروں کے لیے جدید سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔

اسٹیشن کے اندر داخل ہوتے ہی اوپن پلان ہال، آرام دہ ماحول اور خصوصی افراد کے لیے آسان رسائی نمایاں نظر آتی ہے۔

ٹکٹنگ اور پلیٹ فارم

مسافر آن لائن یا اسٹیشن پر موجود خودکار مشینوں کے ذریعے ٹکٹ حاصل کر سکیں گے۔ اگرچہ کرایوں کا ابھی اعلان نہیں کیا گیا، حکام کے مطابق مختلف سفری پیکجز متعارف کرائے جائیں گے۔

پلیٹ فارم تک رسائی خودکار گیٹس اور ایسکلیٹرز کے ذریعے ہوگی، جبکہ بڑی اسکرینوں پر ٹرینوں کی معلومات دکھائی جائیں گی۔

تیز رفتار اور آرام دہ ٹرینیں

اتحاد ریل مسافر ٹرین میں تقریباً 400 مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش موجود ہوگی۔

یہ ٹرینیں 200 کلومیٹر فی گھنٹہ تک رفتار سے سفر کریں گی، جس کے بعد دبئی سے ابوظہبی کا سفر صرف 57 منٹ جبکہ ابوظہبی سے فجیرہ کا سفر 105 منٹ میں مکمل ہوگا۔

پریمیم اور کمفرٹ کلاس

ٹرین میں پریمیم اور کمفرٹ دو کلاسیں رکھی گئی ہیں۔

پریمیم کلاس میں کشادہ اور آرام دہ ریکلائننگ نشستیں، فولڈنگ ٹیبل اور اضافی سہولیات موجود ہیں، جبکہ کمفرٹ کلاس میں جدید نشستوں کے ساتھ موبائل چارجنگ پورٹس اور پاور آؤٹ لیٹس فراہم کیے گئے ہیں۔

حجر پہاڑوں کے اندر طویل ٹنلز

مسافروں کو سفر کے دوران حجر پہاڑ کے درمیان بنے 9 ٹنلز سے گزرنے کا تجربہ بھی حاصل ہوگا، جن کی مجموعی لمبائی تقریباً 6.9 کلومیٹر ہے۔

یہ ٹنلز خطے کے طویل ترین ریلوے ٹنلز میں شمار کیے جا رہے ہیں۔

سامان رکھنے کی خصوصی سہولت

ٹرین میں بڑے سامان کے لیے الگ مخصوص حصہ بنایا گیا ہے، جبکہ چھوٹے بیگز کے لیے اوورہیڈ لگج اسپیس بھی موجود ہوگی۔

اتحاد ریل کا 900 کلومیٹر طویل نیٹ ورک ملک کے بڑے ایئرپورٹس کے قریب اسٹیشنز سے منسلک ہوگا تاکہ مسافروں کو آسان سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔

بٹھنہ برج کا دلکش منظر

سفر کے دوران ٹرین بٹھنہ برج سے بھی گزرے گی، جو پورے نیٹ ورک کا سب سے بلند پل ہے۔

40 میٹر بلند اور 600 میٹر طویل اس پل سے بٹھنہ قلعہ اور گرد و نواح کے سرسبز مناظر انتہائی دلکش دکھائی دیتے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button