متحدہ عرب امارات

جعلی ایپس کے لنکس سے متحدہ عرب امارات کے صارفین کو سائبر خطرات کا سامنا، ماہرین کی خبردار

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں سائبر سکیورٹی ماہرین نے شہریوں اور رہائشیوں کو واٹس ایپ، ٹیلیگرام اور دیگر غیر رسمی ذرائع سے موبائل ایپلی کیشنز ڈاؤن لوڈ کرنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ ایسے لنکس کے ذریعے مالویئر اور دیگر نقصان دہ سافٹ ویئر موبائل فونز تک پہنچنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

جی سیک گلوبل 2026 کے موقع پر پروٹیکٹ اے آئی کے مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے کنٹری ہیڈ پشکر سنگھ نے کہا کہ متحدہ عرب امارات دنیا میں ایپلی کیشنز ڈاؤن لوڈ کرنے والے نمایاں خطوں میں شامل ہے، جس کے باعث یہ نقصان دہ سافٹ ویئر پھیلانے والوں کے لیے اہم ہدف بن گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اینڈرائیڈ صارفین کو ایپلی کیشنز صرف پلے اسٹور جبکہ آئی فون صارفین کو صرف ایپ اسٹور سے ایپس ڈاؤن لوڈ کرنی چاہئیں۔ واٹس ایپ، ٹیلیگرام یا ڈارک ویب کے ذریعے گردش کرنے والی ایپلی کیشنز میں بعض اوقات نقصان دہ کوڈ شامل کیا جاتا ہے اور صارف کو انسٹالیشن سے پہلے اس کا اندازہ نہیں ہوتا۔

پشکر سنگھ کے مطابق بعض ایپس کو دوبارہ تیار کرکے ان میں نقصان دہ کوڈ داخل کیا جاتا ہے، تاہم ادارے ایسے خطرات سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی کنٹرولز استعمال کرسکتے ہیں تاکہ کسی ملازم کی جانب سے غیر دانستہ طور پر ایسی ایپ انسٹال کیے جانے کے باوجود وہ ادارے کے ڈیوائس پر کام نہ کرسکے۔

سائبر ماہر نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے بڑھتے ہوئے سوشل انجینئرنگ فراڈ سے بھی خبردار کیا۔ ان کے مطابق آواز اور ویڈیو کی نقل تیار کرنے والی ٹیکنالوجی نے جعل سازوں کے لیے کسی شخص کی شناخت کی نقل کرنا آسان بنا دیا ہے، جس کے نتیجے میں بظاہر حقیقی ویڈیو یا صوتی رابطے کے دوران بھی دھوکا دہی پر مبنی لین دین کرایا جاسکتا ہے۔

انہوں نے صارفین کو وی پی این اور پراکسی سروسز کے غیر محتاط استعمال سے بھی خبردار کیا اور کہا کہ صارفین کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا انٹرنیٹ ٹریفک کس راستے سے گزر رہا ہے، کیونکہ غیر محفوظ یا مداخلت شدہ ٹریفک حملہ آوروں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک میں فن ٹیک شعبے کی تیز رفتار ترقی اور مصنوعی ذہانت پر مبنی پلیٹ فارمز کے بڑھتے استعمال کے باعث ڈیجیٹل لین دین کی سکیورٹی مزید اہم ہوگئی ہے۔ کمپنیوں کو صرف قیمت نہیں بلکہ اپنی ضروریات کے مطابق سکیورٹی حل کا انتخاب کرنا چاہیے اور موبائل ڈیوائسز اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ایجنٹس کو بھی سکیورٹی کے دائرے میں شامل کرنا چاہیے۔

جی سیک گلوبل 2026 میں سی پی ایکس کے چیف ایگزیکٹو ہادی انور نے بھی مصنوعی ذہانت سے چلنے والے سائبر حملوں میں اضافے کی نشاندہی کی۔ ان کے مطابق ڈیپ فیک فراڈ، شناخت پر مبنی حملے اور مصنوعی ذہانت سے تقویت یافتہ سوشل انجینئرنگ کے ساتھ ساتھ ڈیٹا لیک، غیر منظم مصنوعی ذہانت کے استعمال اور اے آئی ماڈلز میں ردوبدل جیسے خطرات بھی سامنے آرہے ہیں۔

گروپ آئی بی کے نائب صدر اشرف کوہیل نے کہا کہ 2025 میں خلیجی ممالک سپلائی چین حملوں کے حوالے سے دنیا کے 10 بڑے اہداف میں شامل رہے، جبکہ مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں مالیاتی خدمات کے شعبے کو نشانہ بنانے والے فشنگ حملوں میں سے 28.5 فیصد خطے سے متعلق تھے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button