متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات کے محققین نے کھجور کے درختوں اور دیگر پودوں کے فضلے سے ایک ایسا جیل تیار کیا ہے جو فصلوں کی نشوونما بہتر بنانے کے ساتھ آب پاشی کے لیے پانی کی ضرورت تقریباً 30 فیصد تک کم کرسکتا ہے۔

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے محققین نے کھجور کے درختوں اور دیگر پودوں کے فضلے سے ایک ایسا جیل تیار کیا ہے جو فصلوں کی نشوونما بہتر بنانے کے ساتھ آب پاشی کے لیے پانی کی ضرورت تقریباً 30 فیصد تک کم کرسکتا ہے۔ ٹیکنالوجی انوویشن انسٹی ٹیوٹ میں تیار کیے گئے اس مادے کو ایگری جیل کا نام دیا گیا ہے، جس کے تجربات کے دوران کم پانی میں پودوں کی بہتر نشوونما کے ابتدائی آثار سامنے آئے ہیں۔

گرین ہاؤس میں کیے گئے تجربات کے دوران ایک ہی دن لگائے گئے پودوں کا موازنہ کیا گیا۔ جن گملوں کی مٹی میں ایگری جیل شامل کیا گیا تھا، ان میں سبز کونپلیں نکلنا شروع ہوگئیں، جبکہ بغیر جیل والی مٹی میں لگائے گئے پودوں میں نمایاں نشوونما نظر نہیں آئی۔ ایک اور تجربے میں جیل کے ساتھ اگائی گئی پالک کا حجم عام طریقے سے اگائی گئی پالک کے مقابلے میں تقریباً دوگنا تھا۔ اسی طرح جیل استعمال کرنے والے مکئی کے پودے بھی بغیر جیل والے پودوں سے تقریباً دوگنا لمبے دکھائی دیے۔

محققین کے مطابق یہ مشاہدات ابھی فصلوں کی پیداوار میں اضافے کا حتمی یا باقاعدہ پیمانہ نہیں، تاہم گرین ہاؤس میں کیے گئے تجربات کے دوران پانی کے استعمال میں اوسطاً 30 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ ٹیکنالوجی انوویشن انسٹی ٹیوٹ کے قابل تجدید اور پائیدار توانائی کے تحقیقی مرکز کے سربراہ اور چیف ریسرچر پروفیسر فل ہارٹ کے مطابق منصوبے کا بنیادی مقصد کم پانی استعمال کرتے ہوئے زیادہ خوراک پیدا کرنا ہے۔

متحدہ عرب امارات جیسے گرم اور خشک ماحول میں زراعت کو محدود قابل کاشت زمین اور پانی کی دستیابی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ اگر زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے پانی کا استعمال بہت زیادہ بڑھایا جائے تو اس پانی کی فراہمی اور استعمال سے متعلق توانائی کی ضروریات بھی بڑھ جائیں گی، اس لیے ایسے طریقے تلاش کرنا ضروری ہے جو قدرتی وسائل پر اضافی دباؤ ڈالے بغیر فصلوں کی نشوونما بہتر بنا سکیں۔

ایگری جیل کھجور کے درختوں سمیت دیگر پودوں کے قدرتی فضلے سے تیار کیا جاتا ہے۔ محققین اس فضلے کو پراسیس کرکے ایک مسام دار مادے میں تبدیل کرتے ہیں اور دیگر اجزا شامل کرنے کے بعد اسے مٹی میں ملاتے ہیں۔ پروفیسر فل ہارٹ کے مطابق جیل کے چھوٹے چھوٹے ذرات پانی کے ذخیرے کی طرح کام کرتے ہیں۔ یہ تیزی سے پانی جذب کرتے ہیں، اسے پودوں کی جڑوں کے قریب محفوظ رکھتے ہیں اور پھر پودے کی ضرورت کے مطابق آہستہ آہستہ خارج کرتے ہیں، جس سے پانی کے ضیاع کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

اس مادے میں شامل بعض اجزا کھاد بھی بتدریج خارج کرتے ہیں، جس سے پودوں کو غذائی اجزا مسلسل مل سکتے ہیں اور کسانوں کے لیے الگ سے کھاد ڈالنے کی ضرورت کم ہونے کا امکان ہے۔ محققین کے مطابق ایگری جیل فصل کی نشوونما کے دوران بتدریج تحلیل بھی ہوجاتا ہے۔ اسے اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ عام باریک پاؤڈر کی طرح ہوا سے اڑنے کے بجائے مٹی میں برقرار رہے اور ضرورت کے مطابق پانی اور غذائی اجزا فراہم کرتا رہے۔

تحقیقی ٹیم اب گرین ہاؤس کے تجربات سے آگے بڑھتے ہوئے کھلے کھیتوں میں اس ٹیکنالوجی کی افادیت جانچنے کی تیاری کررہی ہے۔ منصوبے کے تحت العین، یاس آئی لینڈ کے شمالی علاقے اور البرشا کے تین فارموں پر تجربات شروع کیے جانے ہیں۔ ان میں دو مقامات پر اندرونی اور بیرونی ماحول میں آزمائش کی جائے گی، جبکہ تیسرے مقام پر مکمل طور پر کھلے کھیت میں تجربہ ہوگا۔ محققین یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آیا گرین ہاؤس میں سامنے آنے والے نتائج حقیقی زرعی حالات میں بھی برقرار رہتے ہیں۔

ایگری جیل کو پالک، مکئی، سورج مکھی، مرچ اور سلاد کے پتوں سمیت مختلف فصلوں پر آزمایا گیا ہے۔ ٹیم کے ایک محقق کے مطابق جیل کے ساتھ اگائی گئی سورج مکھی کے پودوں پر پھول ان پودوں کے مقابلے میں تقریباً دو ہفتے پہلے کھل گئے جن میں یہ مادہ استعمال نہیں کیا گیا تھا۔ محققین کا ہدف فیلڈ ٹرائلز کے نتائج سے مشروط رہتے ہوئے 2027 میں اس ٹیکنالوجی کو تجارتی استعمال کے لیے متعارف کرانا ہے۔

اسی ادارے میں ایک اور منصوبے کے تحت مصنوعی ذہانت کی مدد سے ایسے مالیکیولز تلاش کیے جارہے ہیں جو شمسی پینلز کو بالائے بنفشی شعاعوں سے ہونے والے نقصان سے محفوظ رکھ سکیں۔ اس تصور کو سن بلاک سے تشبیہ دی گئی ہے، جس میں مالیکیولز بالائے بنفشی شعاعوں کو جذب کرکے ان کی توانائی کو مرئی روشنی میں تبدیل کرتے ہیں، جسے شمسی خلیے بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔

پروفیسر فل ہارٹ کے مطابق ٹیم کی جانچ سے ظاہر ہوا ہے کہ جدید شمسی پینلز اپنی ابتدائی تقریباً دو سالہ مدت میں بالائے بنفشی شعاعوں کے اثرات سمیت مختلف عوامل کے باعث اپنی کارکردگی میں 20 فیصد تک کمی کا شکار ہوسکتے ہیں۔ بڑے شمسی فارموں میں اس نوعیت کی کمی بجلی کی مجموعی پیداوار پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔ محققین کا بنیادی مقصد پینلز کو اس نقصان سے بچانا ہے، جبکہ اضافی بجلی پیدا ہونا ممکنہ ثانوی فائدہ ہوگا۔

اس تحقیق میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے تقریباً 40 ہزار ممکنہ عنصری امتزاجوں کا جائزہ لیا گیا، جن میں سے 10 مالیکیولز کو مزید جانچ کے لیے منتخب کیا گیا۔ ان میں سے دو خاص طور پر امید افزا قرار دیے گئے ہیں، تاہم ابھی یہ طے ہونا باقی ہے کہ کون سا مالیکیول بہتر کارکردگی دکھاتا ہے۔ محققین نے واضح کیا ہے کہ اس مرحلے پر پینلز کی عمر یا بجلی کی پیداوار میں اضافے کی مقدار کے بارے میں حتمی نتائج سامنے نہیں آئے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button