
خلیج اردو
ابوظبی:
متحدہ عرب امارات میں قومی فوجی خدمت میں شامل ہونے والی خواتین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور ان کے پیچھے محرکات محض حب الوطنی ہی نہیں بلکہ ذاتی قربانیاں، خاندان کی روایت، اور اپنی ذات کو نکھارنے کا جذبہ بھی شامل ہیں۔
18 سالہ مریم عبداللہ صالح البادری ان خواتین میں شامل ہیں جنہوں نے اپنے والد کی شہادت کے بعد زندگی کا رخ تبدیل کیا۔ خلیج ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’سچ بتاؤں تو میں نے کبھی فوج میں شامل ہونے کا سوچا ہی نہیں تھا، لیکن جب میرے والد 2022 میں شہید ہوئے تو مجھے لگا کہ میرا اصل مقام وہی ہے جہاں انہوں نے اپنی جان دی۔‘‘ مریم ابوظبی میں مقیم ہیں اور یو اے ای آرمڈ فورسز میں آٹھ ماہ کی خدمت مکمل کر چکی ہیں۔ ان کے مطابق وہ کبھی باغی مزاج اور ناز پر پلی تھیں، مگر اب وہ خود مختار، ذمہ دار اور مضبوط شخصیت کی مالک بن چکی ہیں۔
ان کے لیے سب سے بڑا چیلنج جذباتی دباؤ اور گھر کی یاد تھی، مگر ان کی ساتھی خواتین نے انہیں ہمت دی۔ اب وہ نہ صرف جسمانی طور پر مضبوط ہو چکی ہیں بلکہ نظم و ضبط اور قیادت کی خوبیوں میں بھی نکھار آیا ہے۔ مریم اب خواہاں ہیں کہ وہ آفیسر کینیڈیٹ اسکول میں داخلہ لے کر فوجی کیریئر کو مزید آگے بڑھائیں۔
اسی طرح 20 سالہ کملہ محمد حسن البلوشی، جو پہلے گھریلو زندگی اور یونیورسٹی تک محدود تھیں، جب انہوں نے ٹک ٹاک پر اماراتی خواتین کو وردی میں دیکھا تو ان میں جذبہ پیدا ہوا کہ وہ بھی ملک کی خدمت کریں۔ ابتدائی دنوں میں والدہ کی یاد اور موسم کی شدت نے انہیں آزمائش میں ڈالا، مگر انہوں نے ثابت قدمی کے ساتھ یہ سفر جاری رکھا۔ اب وہ نہ صرف خود پر زیادہ اعتماد رکھتی ہیں بلکہ اپنی والدہ کے لیے بھی ایک سہارا بن چکی ہیں۔ کملہ فی الوقت الیکٹریکل انجینئرنگ کی طالبہ ہیں اور قومی خدمت مکمل ہونے کے بعد تعلیم جاری رکھنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
العیِن سے تعلق رکھنے والی 24 سالہ فاطمہ احمد العیبری نے میڈیا میں کیریئر بنانے کا خواب دیکھا تھا، مگر والدہ کے مشورے پر فوجی خدمات اختیار کیں۔ وہ اپنی ٹیم کی لیڈر بن کر اب اماراتی خواتین کی نمائندگی کرتی ہیں۔ فاطمہ کے لیے سب سے یادگار لمحہ یو اے ای کے 53 ویں قومی دن اور قومی خدمت قانون کی دسویں سالگرہ پر "وقفۃ ولاء” تقریب میں شرکت تھی، جہاں انہوں نے شیخ محمد بن راشد المکتوم کو قریب سے دیکھا۔ اس لمحے نے انہیں فخر اور جذبات سے بھر دیا۔
19 سالہ دانا ہلال الشامسی، جو شارجہ سے تعلق رکھتی ہیں، نے اپنے والد کے مشورے پر یونیورسٹی کے بجائے فوجی خدمت چنی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ نئے معمولات، سخت نظم و ضبط اور صبح جلدی اٹھنا ان کے لیے مشکل تھا، مگر والد کے حوصلے اور تربیت کاروں کے تعاون سے وہ اس سفر میں آگے بڑھتی گئیں۔ اب وہ خود اعتمادی، قیادت اور بات چیت کی صلاحیت میں نمایاں بہتری لا چکی ہیں۔
قومی خدمت کا یہ جامع پروگرام گیارہ ماہ پر مشتمل ہوتا ہے جس میں تین مراحل شامل ہوتے ہیں: بنیادی، خصوصی اور عملی تربیت۔ اس میں مارچنگ، اسلحہ استعمال، نشانہ بازی، انجینئرنگ اور علمی لیکچرز شامل ہیں۔ بھرتی کے لیے ضروری شرائط میں اماراتی شہریت، 18 سے 30 سال کی عمر (خواتین کے لیے 35 تک)، طبی فٹنس، نیشنل سروس کمیٹی کی منظوری، اور خواتین کے لیے ولی کا اجازت نامہ شامل ہے۔
یہ خواتین امارات میں بدلتے ہوئے رجحان کی علامت ہیں، جہاں قوم کی بیٹیاں بھی ملک کی خدمت میں مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں، اور اپنی کہانیوں سے نئی نسل کے لیے ترغیب اور مثال بن رہی ہیں۔





