خلیج اردو آن لائن:
متحدہ عرب امارات کی راس الخیمہ امارات میں ایک نجی کمپنی کی ایک اماراتی ڈپٹی مینیجر نے راس الخیمہ عدالت میں اپنی کمپنی کے خلاف 2 لاکھ 14 ہزار 2 سو درہم کے واجبات کی ادائیگی کے لیے درخواست دائر کردی۔
درخواست کنندہ نے عدالت سے اپیل کی ہے کہ عدالت اس کی سابقہ کمپنی کو اسے اس کی گزشتہ 6 ماہ کی زیر التواء تنخواہ، سالانہ چھٹی کے واجبات اور نوکری سے صوابدیدی برخاستگی کا معاؤضہ ادا کرنے کا حکم جاری کرے۔
عدالت سے رجوع کرنے والی خاتون نے اپنے درخواست میں مزید بتایا ہے کہ وہ ماہانہ 13 ہزار درہم تنخواہ حاصل کر رہی تھی جس میں کورونا وائرس کی وبا کے باعث 1300 درہم کی کم کر دی گئی تھی۔ تاہم، اپریل میں اسے نوکری سے نکال دیا گیا۔
خاتون نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ اس کے بعد کمپنی نے اس کے علاوہ باقی تمام ملازمین کی نوکری برقرار رکھی اور اسے وجہ بتائے اور نوٹس پیریڈ کے بغیر نوکری پر واپس نے آنے سے روک دیا گیا۔
مزید برآں، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ متعلقہ لیبر آفس کے سامنے بھی کمپنی نے واجبات کے حوالے سے معاملات کو دوستانہ طریقے سے حل کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
درخواست کنندہ نے عدالت سے درخواست کی ہےکہ وہ کمپنی کو اسے دوبارہ نوکری پر رکھنے اور اس کے تمام واجبات ادا کرنے کا حکم جاری کرے۔
تاہم، عدالت نے اپنا فیصلہ سنانے کے لیے سماعت ملتوی کردی ہے۔
Source: Khaleej Times







