متحدہ عرب امارات

رمضان میں عمرہ کا رش، یو اے ای سے پروازیں فل، سعودی عرب میں ریکارڈ ہجوم

خلیج اردو
رمضان المبارک کے دوران متحدہ عرب امارات سے عمرہ زائرین کی بڑی تعداد سعودی عرب کا رخ کر رہی ہے اور ٹریول ایجنٹس کے مطابق فلائٹس تقریباً مکمل بک ہو چکی ہیں۔ ویزا منظوری کے چند دنوں کے اندر ہی رہائشی اپنے سفری منصوبے حتمی بنا رہے ہیں جس کے باعث ٹکٹوں کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

یہ بڑھتا ہوا رش ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی حکام کے مطابق رواں رمضان میں ایک ہی دن میں 9 لاکھ 4 ہزار سے زائد زائرین نے مسجد الحرام میں عمرہ ادا کیا، جو اب تک کی بلند ترین تعداد قرار دی جا رہی ہے۔ مکہ مکرمہ میں ریکارڈ ہجوم کے اس منظر میں یو اے ای سے جانے والے زائرین بھی نمایاں حصہ ہیں۔

ٹریول آپریٹرز کا کہنا ہے کہ روایتی عمرہ ویزے کے مقابلے میں اب زیادہ تر رہائشی سعودی ٹورسٹ ویزے پر سفر کر رہے ہیں کیونکہ یہ ویزا عموماً دو دن میں منظور ہو جاتا ہے، بشرطیکہ مستند ٹریول ایجنسی کے ذریعے درخواست دی جائے۔ بعض ایجنٹس کے مطابق آن لائن خود درخواست دینے والوں کو ادھورے یا غلط کاغذات کی وجہ سے تاخیر یا مسترد ہونے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اس لیے درست دستاویزات کی تیاری انتہائی اہم ہے۔

ایک ماہ کے لیے کارآمد سنگل انٹری ٹورسٹ ویزا زائرین کو 30 دن تک قیام کی اجازت دیتا ہے، تاہم یو اے ای کے بیشتر رہائشی ایک ہفتے کے مختصر پیکجز کو ترجیح دے رہے ہیں۔ چار روزہ پیکج، جس میں دو دن مکہ اور دو دن مدینہ منورہ میں قیام شامل ہوتا ہے، اس رمضان میں سب سے زیادہ مقبول بتایا جا رہا ہے۔

فضائی سفر کے ساتھ ساتھ بس کے ذریعے زمینی راستہ بھی اختیار کیا جا رہا ہے، تاہم سرحدی مقامات پر ٹریفک کے دباؤ کے باعث سفر کا دورانیہ بڑھ گیا ہے۔ اسی وجہ سے بعض رہائشی ذاتی گاڑیوں پر سعودی عرب جانے کو نسبتاً آسان اور لچکدار آپشن قرار دے رہے ہیں۔ ٹریول ایجنٹس کے مطابق اس وقت ٹورسٹ ویزے پر عمرہ ادائیگی پر کوئی پابندی نہیں ہے۔

ٹریول ماہرین کا کہنا ہے کہ کئی زائرین رمضان کے آغاز میں عمرہ ادا کر کے واپس آ رہے ہیں اور آخری عشرے میں دوبارہ جانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، جس سے طلب میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ آئندہ ہفتوں میں بھی بکنگ کا یہی رجحان برقرار رہنے کی توقع ہے کیونکہ رمضان کے آخری ایام کو روحانی اعتبار سے خصوصی اہمیت حاصل ہے اور پروازوں کی مکمل بکنگ مسافروں کو جلد فیصلے کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق سعودی عرب میں ریکارڈ ہجوم اور بڑھتی ہوئی فضائی طلب اس بات کا ثبوت ہے کہ رمضان میں عمرہ کی روحانی کشش بدستور قائم ہے اور خطے بھر سے زائرین کی آمد آئندہ دنوں میں مزید تیز ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button