
خلیج اردو
فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ میں کئی یادگار گول دیکھنے کو ملے، لیکن چند لمحات ایسے ہیں جو دہائیوں گزرنے کے باوجود شائقین کے ذہنوں میں آج بھی زندہ ہیں۔
فٹبال کے عالمی میلے کے آغاز سے قبل ماہرین اور شائقین ایک بار پھر ان گولز کو یاد کر رہے ہیں جنہوں نے کھیل کی تاریخ بدل دی اور کھلاڑیوں کو امر بنا دیا۔
پانچویں نمبر پر نیدرلینڈز کے ڈینس برگ کیمپ کا 1998 کے کوارٹر فائنل میں ارجنٹینا کے خلاف شاندار گول شامل ہے۔ طویل پاس پر بہترین کنٹرول اور نفیس فنش نے اس گول کو تاریخ کے خوبصورت ترین گولز میں شامل کر دیا۔
چوتھے نمبر پر برازیل کے عظیم کھلاڑی پیلے کا 1958 کے فائنل میں سویڈن کے خلاف گول ہے۔ صرف سترہ برس کی عمر میں پیلے نے غیرمعمولی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا کو اپنی صلاحیتوں کا معترف بنا دیا۔
تیسرے نمبر پر سعودی عرب کے سعید العویران کا 1994 کے ورلڈ کپ میں بیلجیم کے خلاف انفرادی مہارت سے بھرپور گول ہے۔ سعید العویران نے اپنے ہی نصف میدان سے گیند لے کر متعدد مدافع کھلاڑیوں کو شکست دی اور ایک ناقابلِ فراموش گول اسکور کیا۔
دوسرے نمبر پر برازیل کے کپتان کارلوس البرٹو ٹوریس کا 1970 کے فائنل میں اٹلی کے خلاف گول ہے۔ یہ گول اجتماعی ٹیم ورک اور خوبصورت پاسنگ کا شاہکار سمجھا جاتا ہے۔
پہلے نمبر پر ارجنٹینا کے ڈیاگو میراڈونا کا 1986 کے کوارٹر فائنل میں انگلینڈ کے خلاف کیا گیا "صدی کا گول” قرار دیا جاتا ہے۔ میراڈونا نے کئی کھلاڑیوں کو ڈاج دیتے ہوئے شاندار انداز میں گیند جال میں پہنچائی اور فٹبال تاریخ کا عظیم ترین گول اسکور کیا۔
ان گولز نے نہ صرف میچوں کے نتائج تبدیل کیے بلکہ فٹبال کے کھیل کو نئی شناخت بھی دی، یہی وجہ ہے کہ آج بھی دنیا بھر کے شائقین انہیں احترام اور محبت سے یاد کرتے ہیں۔







