متحدہ عرب امارات

دبئی میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی، خریدار دوبارہ جیولری مارکیٹ کا رخ کرنے لگے

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں سونے کی قیمتوں میں حالیہ کمی کے بعد جیولری اور سرمایہ کاری کے لیے خریداری میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جبکہ کئی خاندانوں نے مؤخر کیے گئے شادی بیاہ اور دیگر اہم مواقع کی خریداری دوبارہ شروع کر دی ہے۔

مارکیٹ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران دبئی میں 24 قیراط سونے کی قیمت تقریباً 47 درہم فی گرام جبکہ 22 قیراط سونا تقریباً 43 درہم فی گرام سستا ہوا ہے۔

پیر کے روز دبئی میں 24 قیراط سونے کی قیمت 521.50 درہم فی گرام جبکہ 22 قیراط سونے کی قیمت 482.75 درہم فی گرام پر بند ہوئی۔

شادیوں اور سرمایہ کاری کے لیے خریداری میں اضافہ

Joyalukkas Jewellery کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جان پال الوکاس کے مطابق قیمتوں میں کمی کے بعد شاپنگ سینٹرز اور جیولری شورومز میں خریداروں کی آمد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو خاندان کافی عرصے سے شادیوں کے لیے زیورات خریدنے کا انتظار کر رہے تھے، وہ اب آرڈرز مکمل کر رہے ہیں جبکہ سرمایہ کاری کی غرض سے خریداری بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

22 قیراط سونا سب سے زیادہ مقبول

Kanz Jewels کے منیجنگ ڈائریکٹر انیل دھانک کے مطابق قیمتوں میں کمی کے باعث 22 قیراط سونا خریداروں کے لیے زیادہ قابلِ رسائی ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کئی صارفین، جنہوں نے بلند قیمتوں کے باعث خریداری مؤخر کر دی تھی، اب مارکیٹ میں واپس آ رہے ہیں اور نسبتاً بھاری ڈیزائنز اور شادیوں کے خصوصی سیٹس خرید رہے ہیں۔

اسی طرح Malabar Gold & Diamonds کے بین الاقوامی آپریشنز کے منیجنگ ڈائریکٹر شملال احمد نے کہا کہ قیمتوں میں یہ کمی خاص طور پر ان صارفین کے لیے پرکشش ثابت ہو رہی ہے جو مناسب قیمت پر سونے کی خریداری کے منتظر تھے۔

عارضی کمی، طویل مدتی رجحان بدستور مثبت

ماہرین کے مطابق تاریخی طور پر سونے کی قیمتوں کا طویل مدتی رجحان اوپر کی جانب رہا ہے، اسی لیے بہت سے خریدار موجودہ کمی کو خریداری کے لیے ایک موزوں موقع تصور کر رہے ہیں۔

Bafleh Jewellers کے منیجنگ ڈائریکٹر چراغ وورا کے مطابق جنوبی ایشیائی اور عرب خریدار روایتی طور پر 22 قیراط سونے کو ترجیح دیتے ہیں، کیونکہ یہ زیور کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری کا بھی ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔

مارکیٹ ذرائع کے مطابق موجودہ قیمتوں نے نہ صرف نئے خریداروں کو متوجہ کیا ہے بلکہ کئی صارفین کو ہلکے زیورات کے بجائے زیادہ وزنی اور قیمتی ڈیزائنز خریدنے کی ترغیب بھی دی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button