
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں دبئی کریمنل کورٹ نے بینک صارفین کو نشانہ بنانے والی ڈکیت گینگ کو سزا سناتے ہوئے چھ ملزمان کو سات سال قید اور ایک کروڑ درہم جرمانہ عائد کر دیا۔
عدالت نے ایک خاتون سمیت تمام سات ملزمان کو سزا مکمل ہونے کے بعد ملک بدر کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق ملزمان نے پیشگی منصوبہ بندی کے تحت بینک سے بڑی رقم نکالنے والے افراد کی نگرانی کر کے انہیں لوٹنے کا طریقہ کار اختیار کیا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے ایک فلیٹ کرائے پر لیا جہاں چوری شدہ رقم چھپائی جاتی تھی، جبکہ واردات کے لیے گاڑی بھی تیار رکھی گئی تھی۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ایک ملزم بینک کے باہر کھڑے ہو کر صارفین پر نظر رکھتا اور بڑی رقم نکالنے والے شخص کی نشاندہی کرتا تھا۔ متاثرہ شخص کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنے ادارے کی بڑی رقم بینک سے نکال کر باہر نکلا۔
ملزمان نے اس کا پیچھا کیا، موقع ملتے ہی اسے روک کر رقم چھین لی اور فرار ہو گئے۔ تاہم دبئی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا اور تقریباً 58 لاکھ 70 ہزار درہم رقم برآمد کر لی۔
عدالت نے چھ مرکزی ملزمان کو ڈکیتی کا مجرم قرار دیتے ہوئے مشترکہ طور پر چوری شدہ رقم کے برابر جرمانہ عائد کیا، جبکہ ساتویں ملزمہ کو ایک ماہ قید، 20 ہزار درہم جرمانہ اور تقریباً 48 لاکھ 79 ہزار درہم واپس کرنے کا حکم دیا گیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ ملزمہ نے مجرموں کو پناہ دینے اور رقم چھپانے میں مدد فراہم کی، جس پر اسے بھی سزا دی گئی۔
فوجداری فیصلے کے بعد کیس کو دیوانی عدالت بھیج دیا گیا جہاں متاثرہ فریق نے باقی رقم اور نقصانات کے ازالے کے لیے دعویٰ دائر کر رکھا ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ تمام ملزمان منظم انداز میں اس جرم میں ملوث تھے اور ان کی مشترکہ کارروائی نے متاثرہ شخص کو شدید مالی نقصان پہنچایا۔
یہ واقعہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ دبئی میں قانون نافذ کرنے والے ادارے مالی جرائم کے خلاف سخت مؤقف رکھتے ہیں اور مجرموں کو سخت سزائیں دی جاتی ہیں۔







