متحدہ عرب امارات

سونے کی قیمت 3 ہزار 400 ڈالر فی اونس سے تجاوز کر گئی، ٹرمپ کے ٹیرف کا اثر

خلیج اردو
دبئی – امریکی صدر ٹرمپ کے نئے ٹیرف کے اثرات اب سونے تک پہنچ گئے ہیں، جس میں ایک کلو گرام وزنی سونے کی بارز بھی شامل ہو گئی ہیں، خاص طور پر سوئٹزرلینڈ سے امریکہ کو برآمدات متاثر ہوں گی۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں سونے کی عالمی قیمت 3 ہزار 372 ڈالر سے بڑھ کر دوبارہ 3 ہزار 400 ڈالر فی اونس سے اوپر جا پہنچی ہے۔ دبئی میں 22 قیراط سونے کی قیمت 378.75 درہم فی گرام ہو گئی ہے جو 21 جولائی کے بعد سب سے زیادہ ہے۔

مارکیٹ ذرائع کے مطابق یو اے ای اور خلیج میں سونے کے خریداروں اور دکانداروں کو امریکی ٹیرف سے فوری پریشانی کی ضرورت نہیں۔ سینچری فنانشل کے چیف مارکیٹ اینالسٹ ارون جان کے مطابق یو اے ای میں اب بھی سوئٹزرلینڈ سے بغیر ٹیرف کے سونا درآمد کیا جا سکتا ہے۔ تاہم نیویارک میں ایک کلو بارز کے خریدار بڑی تعداد میں آرڈر دے رہے ہیں جس سے قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ ٹیرف کے نفاذ کے بعد امریکہ میں سونے کی جسمانی ترسیل مہنگی ہو جائے گی۔

سوئٹزرلینڈ دنیا میں سونے کی تجارت کا اہم مرکز ہے جو سالانہ 70 فیصد خام سونا پراسیس کرتا ہے۔ یہاں کی بڑی ریفائنریز جیسے والکیمبی، پامپ اور میٹالور عالمی بینکوں، ای ٹی ایفز اور مرکزی بینکوں کو سونا فراہم کرتی ہیں۔ اب 39 فیصد ٹیرف کے بعد امریکہ جانے والی اس کی تقریباً دو پانچویں برآمدات متاثر ہوں گی۔ گزشتہ سال سوئٹزرلینڈ نے امریکہ کو 61.5 ارب ڈالر مالیت کا سونا برآمد کیا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو دبئی میں 22 قیراط سونے کی قیمت 380 درہم فی گرام سے اوپر جا سکتی ہے، جو ریکارڈ 383.75 درہم کے قریب ہے۔ بہترین امید یہی ہے کہ سوئٹزرلینڈ اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدہ ہو جائے تاکہ حالات معمول پر آ سکیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button