متحدہ عرب امارات

سانحہ گل پلازہ کا چھٹا روز، ریسکیو آپریشن مزید تیز کر دیا گیا، شہر کی فضا مسلسل سوگوار ہے۔

خلیج اردو
ملبے سے لاشیں اور انسانی باقیات ملنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے، ایک اور لاش برآمد ہونے کے بعد جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد 62 ہو گئی ہے۔

ریسکیو حکام کے مطابق 77 سے زائد افراد اب بھی لاپتہ ہیں، جبکہ 15 لاشیں شناخت کے بعد ورثاء کے حوالے کی جا چکی ہیں۔
لاشوں اور انسانی باقیات میں سے 50 افراد کی شناخت کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔

پولیس سرجن کا کہنا ہے کہ گل پلازہ کے ملبے سے اب مکمل لاشوں کے بجائے انسانی باقیات مل رہی ہیں، اعضا کی بنیاد پر یہ تعین کرنا مشکل ہے کہ اصل تعداد کتنی ہو سکتی ہے۔

ادھر سانحے پر انتظامی سطح پر بھی کارروائی شروع کر دی گئی ہے، میونسپل کمشنر کراچی افضل زیدی کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور پاکستان انجینئرنگ کونسل کی مشترکہ تکنیکی کمیٹی نے گل پلازہ کا دورہ کیا، کمیٹی نے عمارت کو انتہائی مخدوش قرار دیتے ہوئے سفارش کی ہے کہ ریسکیو آپریشن مکمل ہونے کے بعد گل پلازہ کو منہدم کر دیا جائے۔
گل پلازہ سے متصل دیگر پلازوں کا بھی تفصیلی معائنہ کیا گیا ہے۔

دوسری جانب گل پلازہ کے باہر جاں بحق افراد کے لواحقین کا احتجاج جاری ہے۔ پولیس اور رینجرز نے متاثرین کو پلازے کے قریب جانے سے روک دیا، جس پر فضا مزید کشیدہ ہو گئی۔

متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ ان کا بھائی سعد گل پلازہ میں جاں بحق ہوا، سات دن گزر چکے ہیں لیکن ابھی تک بھائی کی لاش نہیں ملی۔
لواحقین نے روتے ہوئے کہا ’’یہ کون سی حکومت ہے جو قیمتی جانوں کو نہیں بچا سکتی، ہم تب تک یہاں سے نہیں جائیں گے جب تک ہمیں جواب نہیں ملتا‘‘۔

سانحہ گل پلازہ نے ایک بار پھر شہر میں غیر قانونی تعمیرات، ناقص نگرانی اور انسانی جانوں کی بے قدری پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button