خلیج اردو آن لائن:
متحدہ عرب امارات کے پبلک پراسیکیوشن نے منشیات کا استعمال کرنے والوں خاص طور پر نوجوانوں کو وراننگ جاری کرتے ہوئے کہ منشیات کا استعمال کرتے ہوئے پکڑے جانے پر کم از 2 سال قید اور 10 ہزار درہم جرمانے کی سزا دی جائےگی۔
منشیات کے استعمال کو روکنے اور عوام میں منشیات کے استعمال سےہونے والے نقصانات سے متعلق آگاہی پیدا کرنے کے لیے سوشل میڈیا پر پیغام جاری کرتے ہوئے پبلک پراسیکیوشن نے تنبیہ جاری کی ہے کہ ڈاکٹز کی اجازت کے بغیر ذہنی بیماریوں سے متعلق ادویات اور دیگر نشہ آور ادویات کا استعمال 1995 کے وفاقی قانون نمبر 14 کے تحت غیر قانونی ہے۔
اسی قانون کی دفعہ 34 کے مطابق نشہ آور مواد اور ذہنی بیماریوں کے علاج کے لیے نشہ آور ادویات کا ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر استعمال غیر قانونی ہے۔
پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ اس قانونی کی خلاف ورزی کا مرتکب ہونے کی صورت میں کم از کم دو سال قید اور 10 ہزار درہم جرمانے کی سزا دی جائے گی۔
خیال رہے کہ اس سے پہلے پبلک پراسیکیوشن منشیات کے استعمال کے فروغ دینے کے لیے کسی قسم کی معلومات شائع کرنے کے حوالے سے بھی وارننگ جاری کر چکی ہے۔
اور متحدہ عرب امارات کے پراسیکیوشن ڈیپارٹمںٹ کی کیجانب سے زور دیا گیا ہے کہ 1995 کے وفاقی قانونی نمبر 14 کے مطابق اور دیگر قوانین کے مطابق نشہ آور ادویات دوسروں فروخت کرنے یا اسکو فروغ دینے کے لیے اپنے پاس رکھنا ایک جرم ہے جس کی سزا سزائے موت ہے۔
Source: Khaleej Times






