متحدہ عرب امارات

حج 2026: متحدہ عرب امارات میں حاجیوں کی سہولت کے لیے نیا نظام متعارف

خلیج اردو
ابوظبی، 15 جولائی 2025
متحدہ عرب امارات نے حج 1447ھ (مطابق 2026) کے لیے نیا نظام متعارف کرا دیا ہے جس کا مقصد حج کی خدمات کے معیار کو بہتر بنانا اور حاجیوں کے لیے منظم اور مؤثر سہولتیں فراہم کرنا ہے۔

اس نئے نظام کے تحت صرف وہی حج کیمپینز منظور کی جائیں گی جو متعین کردہ معیار اور شرائط پر پوری اتریں گی۔ ان شرائط میں خدمات کا معیار، انتظامی صلاحیت، مالیاتی تیاری، اور گزشتہ حج سیزن (1446ھ/2025) کی کارکردگی کی بنیاد پر کیے گئے جائزے شامل ہیں۔

یہ اقدام متحدہ عرب امارات میں حج خدمات کو ترقی دینے، سروس فراہم کرنے والوں کے درمیان مسابقت کو فروغ دینے، اور سرکاری ضوابط اور اوقات کار کی سختی سے پابندی کو یقینی بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

جنرل اتھارٹی آف اسلامک افیئرز، اوقاف و زکٰوۃ کی جانب سے حج کیمپینز کے منتظمین کے ساتھ ایک مشاورتی اجلاس میں اس نئے نظام کی تفصیلات شیئر کی گئیں۔ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ یہ نظام اس بات کو یقینی بنائے گا کہ خدمات حاجیوں کی توقعات پر پوری اتریں، اور قیمت و معیار کے درمیان توازن برقرار رکھا جائے۔

اتھارٹی کے مطابق، کیمپینز کی منظوری کے عمل میں ان آپریٹرز کو ترجیح دی جائے گی جو مختلف طبقات کے لیے متنوع سروس پیکجز پیش کریں گے، تاکہ ہر حاجی کو اس کی ضرورت اور استطاعت کے مطابق بہترین سہولت فراہم ہو۔

گزشتہ برسوں میں متحدہ عرب امارات نے سعودی عرب کے کوٹہ سسٹم سے ہم آہنگی کے ساتھ حج کیمپینز کی منظوری کے عمل کو آسان اور منظم بنایا ہے۔ صرف منظور شدہ آپریٹرز کو حج کیمپین چلانے کی اجازت ہوتی ہے، اور ان کی کارکردگی کا سختی سے جائزہ بھی لیا جاتا ہے۔

زیادہ تر اماراتی حاجیوں کے لیے کسی رجسٹرڈ کیمپین میں شامل ہونا ہی واحد قانونی اور عملی راستہ ہے۔ یہی کیمپینز نہ صرف سفری اور رہائشی انتظامات کرتی ہیں بلکہ روحانی رہنمائی بھی فراہم کرتی ہیں، جو ان کے حج کے تجربے کو کامیاب یا ناکام بنا سکتی ہے۔ اس نئے نظام کا مقصد صرف اعلیٰ کارکردگی والے آپریٹرز کو اجازت دینا ہے۔

ماضی میں کچھ حاجیوں نے بدانتظامی یا خدمات میں عدم وضاحت کی شکایات کی تھیں۔ ان شکایات کے پیش نظر، اماراتی حکام نے نگرانی کا عمل سخت کر دیا ہے، جس میں ڈیجیٹل ٹریکنگ، بعد از حج جائزہ اور شفاف رپورٹنگ شامل ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button