متحدہ عرب امارات

حج 2025: تین دہائیوں میں سب سے کم حاضری، کورونا سالوں کے سوا

خلیج اردو
وزارتِ حج و عمرہ کے مطابق اس سال حج میں 16 لاکھ سے زائد مسلمان شریک ہو رہے ہیں، جن کی اکثریت سعودی عرب سے باہر کے ممالک سے آئی ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، یہ تعداد گزشتہ 30 سالوں میں سب سے کم ہے، اگر کورونا کے متاثرہ سالوں (2020-2022) کو نکال دیا جائے۔

وبا سے قبل ہر سال حج میں 20 لاکھ سے زائد افراد شریک ہوتے تھے، جب کہ 2012 میں ریکارڈ 31.6 لاکھ عازمین نے فریضہ حج ادا کیا تھا۔ گزشتہ سال 18 لاکھ افراد نے حج کیا تھا۔

سعودی عرب نے حج اجازت ناموں کو کوٹہ نظام کے تحت ممالک کو تقسیم کیا ہے، جو قرعہ اندازی کے ذریعے افراد کو دیے جاتے ہیں۔ مملکت میں حکام صحت و سلامتی کے بلند ترین معیارات قائم رکھنے کے لیے کوشاں ہیں، تاکہ یہ مقدس فریضہ ہر ممکن تحفظ کے ساتھ ادا کیا جا سکے۔

اس سال بغیر اجازت حج کرنے کی کوشش پر سخت سزائیں عائد کی گئی ہیں، جن میں 20 ہزار ریال جرمانہ، گرفتاری اور ملک بدری شامل ہیں۔ سعودی عرب نے سال کے آغاز میں 14 ممالک کے لیے قلیل مدتی ویزے بھی معطل کر دیے تھے۔ مکہ مکرمہ اور دیگر مقدس مقامات پر سیکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد تعینات ہے۔

تاہم حج کے مہنگے پیکیجز کے باعث بہت سے افراد غیر قانونی طریقے سے داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ 4 جون کو 50 سے زائد غیر ملکیوں کو مکہ میں پیدل داخل ہونے کی کوشش پر گرفتار کیا گیا۔

موسمی اثرات اور حفاظتی اقدامات
گزشتہ سال شدید گرمی کے باعث 1,301 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے، جن میں زیادہ تر غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے افراد تھے، جنہیں مناسب رہائش یا خدمات میسر نہ تھیں۔ ان اموات کے پیش نظر اس سال حکام نے درجہ حرارت سے بچاؤ کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں، جن میں سایہ دار جگہوں میں اضافہ اور 400 سے زائد کولنگ یونٹس کی تنصیب شامل ہے۔

اس سال کی کم تعداد اس بات کی غماز ہے کہ حج کو روحانیت، نظم و ضبط، اور سلامتی کے تقاضوں کے درمیان متوازن بنانے کی کوشش جاری ہے۔ عازمین بدستور اس مقدس سفر کو جذبے سے اپناتے ہیں اور حکام ان کے لیے محفوظ اور بامعنی حج یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button