
خلیج اردو
09 اکتوبر 2020
دبئی: متحدہ عرب امارات وہ ملک ہے جس میں تمام انسانوں اور تمام مذاہب کے لوگوں کو برابری کی سطح پر حقوق حاصل ہے۔ آپ کسی انسان کی کو پامال نہیں کر سکتے اور آپ کو کسی انسان یا کسی مذہب یا کسی بھی طرح کی نفرت انگیز رویے کی کسی بھی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی۔
اگر آپ نفرت انگیز بیانات کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کریں گے تو قانون آپ کے خلاف حرکت میں آئے گی۔ متحدہ عرب امارات کا پینل کوڈ اور سائبر کرائم قوانین سخت سزاؤں کے ساتھ آپ کے ساتھ پیش آئیں گے۔
متحدہ عرب امارات میں عوام کی اگاہی کیلئے پولیس اور عدلیہ سرگرداں ہیں۔ 2019 میں ابوظبہی جوڈیشل ڈیپارٹمنٹ نے 512 کریمنل کیسز ریکارڈ کیئے جو سوشل میڈیا کے استعمال کے ضوابط کے خلاف تھے۔ ان میں انلائن ہراسمنٹ ، بلیک میلنگ ، دھمکیوں، استحصال اور لوگوں کی نجی معلومات کو سوشل میڈیا پر ڈالنے سے متعلق ہیں۔
) نفرت انگیز تقاریر
ایک فورم سے خطاب کرتے ہوئے ابوظبہی جوڈیشل ڈیپارٹمنٹ میں فرسٹ پراسیکوٹر آل عامر آل امری نے 2019 میں سوشل میڈیا کے خلط استعمال اور اس پر قوانین کی خلاف ورزیوں کے بارے میں بتایا کہ وفاقی قوانین سوشل میڈیا کے ملک کے اندر اور باہر پیش آنے والے جرائم کے خلاف ہے۔
وفاقی آئین کے آرٹیکل 30 کے مطابق شہریوں کو رائے کی آزادی کا حق ہے۔ آپ کسی بھی جگہ اپنی رائے کا اظہار کر سکتے ہیں جب تک آپ کسی دوسرے شخص کے حقوق کو پامال نہ کریں۔
) کسی کی ساکھ کو نقصان پہنچانا
متحدہ عرب امارات میں اگر آپ نے کسی شخص کی ساکھب کو نقصان پہنچایا تو وفاقی قانون 2012 کی شق نمبر 5 کے مطابق آپ کو کم از کم 250 ہزار درہم اور زیادہ سے زیادہ 500 ہزار درہم جرمانہ کی سزا دی جائے گی اور آپ کو جیل بھی ہو سکتی ہے۔ آپ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے کسی شخص کی بے عزت کا باعث بنے یا ٓپ نے کسی کی پگڑی اچھالی تو قانون اپنا کام کرے گی۔
) نجی معاملات میں دخل اندازی
اگر آُ نے کسی شخص کی نجی معاملات میں دخل اندازی کی اور آپ نے ان کی ذاتی معلومات یا تصایوریں یا کوئی بھی دساویزات سوشل میڈیا پر اپولڈ کیں یا کوئی خبر جو اس کی ذات سے متعلق ہو تو آپ کے خلاف قانون حرکت میں آئے گی۔ آپ کو ایک سال جیل کے ساتھ کم از کم 250 ہزار درہم اور زیادہ سے زیادہ 500 ہزار درہم کی سزا دی جائے گی۔
اگر آُ نے کسی کی نجی حرکات و سکنات کو کیمرے میں قید کیا اور اسے سوشل میڈیا پر پبلک کیا یا اس کی اجازت کے بغیر اس کی تصویر بنائی تو بھی جرم یہی تصور ہوگا اور قانون کے مطابق آپ کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔
) توہین مذہب
متحدہ عرب امارات کے قانون 35 کا اطلاق مذاہب کے احترام سے متعلق ہے اور اگر آپ نے کسی کے مذہب کی توہین کی تو آپ کو کم از کم 250 ہزار اور زیادہ سے زیادہ 1000 ہزار درہم کا جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔ آپ مذہب اسلام یا کسی مذہب کی مقدس ہستیوں کا مذاق اڑانے یا توہین کرتے پائے گئے تو یہ سزا آپ کو سنائی جائے گی۔
) اسٹیٹ سیکورٹی
ریاست کی حفاظت سے بڑھ کر کچھ نہیں ، آرٹیکل 29 کے مطابق کسی بھی برقی الات یا میڈیم کے ذریعے ریاست کی ساکھ کو نقصان پہنچانا یا کسی بھی اقدام سے ریاست کی سلامتی پر وار کرنا انتہائی بڑا جرم ہے اور اور آپ کو ایک ملین درہم جرمانے کی سزا سنائی جائے گی۔ آپ متحدہ عرب امارات کے صدر ، وزیر اعظم ، نائب صدر یا کسی بھی امارات کے رولر کی توہین کرکے اس سزا کے مستحق ہوں گے۔ آپ کو جیل اور جرمانہ دونون کی سزا ہوگی۔
آرٹیکل 30 کے مطابق کوئی بھی شخص انلائن الیکٹرانک الات کا استعمال کرتے ہوئے اگر کوئی ویب سائیٹ بناتا ہے یا کوئی بھی میڈیم کا استعمال کرکے متحدہ عرب امارات کی سیکورٹی کو نقصان پہنچاتا ہے تو اس کے خلاف قانون اسے سخت سزا دے گی۔
) ڈیپورٹیشن
آرٹیکل 42 کے مطابق عدالت کسی غیر ملکی کو ملک بدر کرنے کا حکم دے سکتی ہےاگر وہ کسی بھی ایسے جرم میں ملوث ہے جو قانون کے مطابق قابل سزا ہے۔ سزا یافتہ شخص کو متحدہ عرب امارات سے لازمی بے دخل کیا جائے گا۔
Source : Gulf News







