
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے مختلف حصوں، بالخصوص ابوظہبی کے علاقے الظفرہ میں 74 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی تیز ہواؤں اور غیر یقینی موسمی صورتحال کے باعث نیشنل سینٹر آف میٹرولوجی (NCM) نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ‘سمندری طوفان’ (Cyclone) کی خبروں کی تردید کر دی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق ہوا کی رفتار درج ذیل مقامات پر ریکارڈ کی گئی:
-
الغویفات: 74 کلومیٹر فی گھنٹہ تک
-
مصفح: تقریباً 71 کلومیٹر فی گھنٹہ
-
ساحلی علاقے: 65 کلومیٹر فی گھنٹہ تک
شدت کے باوجود، این سی ایم نے زور دیا کہ یہ حالات سمندری طوفان ہرگز نہیں ہیں۔ محکمہ موسمیات کے ماہر ڈاکٹر احمد حبیب نے وضاحت کی کہ "اسے سمندری طوفان کہنا سائنسی طور پر مکمل غلط ہے۔ سمندری طوفان کے لیے مخصوص فضائی حالات اور بڑے پیمانے پر ہواؤں کے گردش کے نظام کی ضرورت ہوتی ہے جو موجودہ صورتحال میں نہیں ہے۔ یہ محض ایک کم دباؤ کا نظام ہے جو سال کے اس وقت معمول کی بات ہے۔”
2024 کے طوفان سے مختلف صورتحال ماہرین نے واضح کیا کہ موجودہ سسٹم 2024 کی ریکارڈ توڑ بارشوں سے مختلف ہے۔ گزشتہ سال قلیل وقت میں بھاری بارش ہوئی تھی، جبکہ موجودہ سسٹم میں بارش مختلف لہروں میں دو سے چار دنوں پر محیط ہے، جس سے نکاسِ آب کے نظام کو سنبھلنے کا موقع مل رہا ہے اور سیلابی صورتحال کا خطرہ کم ہے۔
حفاظتی انتباہ جاری حکام نے شہریوں کو شدید بارش کے دوران احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے اور درج ذیل باتوں سے منع کیا ہے:
-
بارش کے دوران وادیوں (Wadis) کا رخ کرنا۔
-
کم حدِ نگاہ میں گاڑی چلانا۔
-
پانی کے ذخیروں یا سیلابی مقامات کے قریب جانا۔
ہفتہ وار تعطیلات کا موسم ہفتہ تک موسم بہتر ہونے کی توقع ہے اور بارش کا امکان نہیں رہے گا، تاہم شمال مغربی ہوائیں برقرار رہ سکتی ہیں۔ درجہ حرارت 20 ڈگری سینٹی گریڈ کے آس پاس رہے گا جبکہ سمندر کی صورتحال بدستور ناہموار رہ سکتی ہے، جس کے باعث تیراکی اور سمندری سرگرمیوں میں خطرہ ہو سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات نے اشارہ دیا ہے کہ اگلے ہفتے کے وسط میں بارش کا ایک اور سلسلہ ملک پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔







