
خلیج اردو
علاقائی غیر یقینی صورتحال کے باوجود متحدہ عرب امارات کے ہوٹلوں میں عید کی تعطیلات کے دوران سیاحوں کا غیر معمولی رش دیکھا گیا ہے، جہاں کئی ہوٹلوں میں گنجائش ختم ہو گئی (فل آکیوپینسی)۔ بین الاقوامی پروازوں کی منسوخی اور فضائی حدود کی بندش کے باعث بڑی تعداد میں رہائشیوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے مقامی سطح پر ‘اسٹیکیشن’ کو ترجیح دی۔
دبئی کی رہائشی ملیحہ خان نے بتایا کہ وہ عید کی چھٹیوں میں اپنے خاندان کے ساتھ ایک مقامی ہوٹل میں رکیں جہاں ناشتے کے وقت تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔ انہوں نے کہا، "میں حیران تھی کیونکہ مجھے توقع تھی کہ علاقائی حالات کی وجہ سے رش کم ہوگا، لیکن یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ معیشت اور کاروبار معمول کے مطابق چل رہے ہیں۔”
ہوٹل آپریٹرز نے بھی عید کے دوران بہترین کاروبار کی تصدیق کی ہے۔ ‘میلیا ڈیزرٹ پام’ کی جنرل مینیجر پاولینا ترابووا الغامدی کا کہنا تھا کہ جیو پولیٹیکل حالات کے باوجود ہمارے ہاں 90 فیصد سے زائد بکنگ رہی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یو اے ای کی سیاحت میں لوگوں کی دلچسپی برقرار ہے۔
اسی طرح عجمان پیلس اور کورل بیچ ریزورٹ شارجہ کے ایریا جنرل مینیجر افتخار ہمدانی نے بتایا کہ عید کی چھٹیوں میں ان کے ہوٹلوں میں 100 فیصد بکنگ رہی۔ انہوں نے کہا کہ رہائشی اب اپنے گھروں کے قریب پرسکون اور معیاری وقت گزارنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
اسٹیکیشن کے رجحان میں اضافے کی وجوہات:
-
سفری رکاوٹیں: امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ تناؤ اور پروازوں کی معطلی کی وجہ سے لوگوں نے بیرون ملک سفر کے بجائے مقامی ہوٹلوں کا رخ کیا۔
-
بہترین قیمتیں: دبئی کی رہائشی شہنا منصور کے مطابق، فائیو اسٹار ہوٹلوں میں ناشتے کے ساتھ 500 درہم تک کے پیکیجز اتنے پرکشش تھے کہ انہوں نے آخری لمحے میں اپنا پروگرام تبدیل کر کے اسٹیکیشن کا انتخاب کیا۔
-
نئے تجربات: جے اے ہٹا فورٹ ہوٹل کے مینیجر جان میجر سک نے بتایا کہ خاندان اور جوڑے اب صرف کمروں کے بجائے ہائیکنگ، یوگا اور آؤٹ ڈور سرگرمیوں والے پیکیجز کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان مارچ اور اپریل کے مہینوں میں بھی برقرار رہنے کی توقع ہے، کیونکہ یو اے ای کی مقامی مارکیٹ انتہائی مستحکم ہے اور لوگ یہاں کی مہمان نوازی اور پرسکون ماحول پر بھرپور اعتماد کرتے ہیں۔







