متحدہ عرب امارات

جنگ کے بادل اور وفادار ساتھی: متحدہ عرب امارات میں پالتو جانوروں کی منتقلی میں ریکارڈ اضافہ، پرائیویٹ جیٹ کے کرایوں نے آسمان چھو لیا

خلیج اردو
علاقائی کشیدگی اور پروازوں کی منسوخی کے سائے میں متحدہ عرب امارات میں مقیم غیر ملکیوں کے لیے ایک نیا چیلنج سامنے آگیا ہے: اپنے ‘بے زبان دوستوں’ کو محفوظ مقامات پر کیسے منتقل کیا جائے؟ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع کے باعث جہاں انسانوں کے لیے سفر مشکل ہوا، وہی پالتو جانوروں (Pets) کی بیرون ملک منتقلی کی طلب میں ہوش ربا اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

جب وفاداری کی قیمت لاکھوں میں ٹھہری دبئی کے رہائشی راہول سیتھورام کی کہانی اس صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔ کمرشل پروازوں کی بندش اور پالتو جانوروں کو لیجانے سے انکار کے بعد، راہول نے اپنے دو سالہ کتے ‘لیو’ کو تنہا چھوڑنے کے بجائے 20,000 یورو (تقریباً 85,000 درہم) تک کی بھاری رقم ادا کر کے پرائیویٹ چارٹر طیارہ بک کیا۔ راہول کا کہنا تھا، "لیو کو پیچھے چھوڑنا میرے لیے کوئی آپشن ہی نہیں تھا، چاہے اس کے لیے مجھے کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑتی۔”

پرائیویٹ جیٹ: عیش و عشرت نہیں، اب ضرورت لگژری پیٹ ٹریول سروس ‘جیٹ سرکل’ کے مطابق، اس وقت پرائیویٹ جیٹ کی ایک سیٹ کی قیمت، جس میں پالتو جانور ساتھ بیٹھ سکتا ہے، 7,000 یورو سے بڑھ کر 20,000 یورو تک جا پہنچی ہے۔ اس کی بڑی وجوہات درج ذیل ہیں:

کمرشل ایئرلائنز کا کردار اور متبادل راستے جہاں کچھ لوگ لاکھوں خرچ کر رہے ہیں، وہیں ‘ایمریٹس’ اور ‘اتحاد’ جیسی ایئرلائنز اب بھی پالتو جانوروں کی منتقلی میں مدد کر رہی ہیں۔ پراپرٹی کنسلٹنٹ کرسٹی میک ہیل نے ایک دلچسپ راستہ اختیار کیا؛ وہ اپنے دو کتوں کے ساتھ دبئی سے میڈرڈ اڑیں، وہاں سے گاڑی کرائے پر لی اور فرانس سے ہوتی ہوئی برطانیہ پہنچیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایمریٹس نے 30 گھنٹے تک ان کے جانوروں کی بہترین دیکھ بھال کی۔

ایجنسیوں پر کام کا بوجھ: ہر گھنٹے 15 کالز دبئی میں پالتو جانوروں کی منتقلی کرنے والی ایجنسیوں (Relocation Agencies) پر اس وقت کام کا شدید دباؤ ہے۔ ‘فری ٹریول’ نامی ایجنسی کو روزانہ 200 کے قریب ای میلز اور ہر گھنٹے 15 سے زائد کالز موصول ہو رہی ہیں۔

  • گھبراہٹ کا عالم: کئی مالکان فوری طور پر نکلنا چاہتے ہیں، لیکن ویکسینیشن، مائیکرو چپ اور ہیلتھ سرٹیفکیٹ جیسے قانونی مراحل میں وقت درکار ہوتا ہے۔

  • پسندیدہ منزل: زیادہ تر لوگ برطانیہ، فرانس، نیدر لینڈز اور کینیڈا کی جانب رخ کر رہے ہیں۔

ماہرین کا مشورہ: اگر آپ بھی اپنے پالتو جانور کو منتقل کرنا چاہتے ہیں، تو تمام ویکسینز اور دستاویزات (جیسے ٹائٹر ٹیسٹ) مکمل رکھیں تاکہ ہنگامی صورتحال میں تاخیر سے بچا جا سکے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button