خلیج اردو
16 نومبر 2020
دبئی: دبئی جو پوری دنیا میں کشادہ اور محفوظ شاہ راہوں کیلئے مشہور ہے ، ان کے جدید شاہراہوں کے منصوبے کے ثمرات عوام تک پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔
دبئی میں سڑکوں اور پبلک ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کی تعمیر سے نہ صرف ٹریفک کی پریشانی کو کم کرنے میں مدد ملی بلکہ اس کے نتیجے میں اس کے رہائشیوں کی بچت بھی ہوئی۔ روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی (آر ٹی اے) کے مطابق ، 2019 میں وقت اور ایندھن کی بچت 24.42 بلین درہم تھی ، جس کا مطلب ہے کہ فی رہائشی 7،400 کے درہم کی بچت ہوئی تھی۔
ڈائریکٹر جنرل اور آر ٹی اے کے بورڈ آف ایگزیکٹو ڈائریکٹرز کے چیئرمین ، متر محمد ال طائر نے کہا کہ اگر آر ٹی اے نے منصوبے نہ شروع کیے ہوتے تو ٹریفک کی رش میں ضائع ہونے والے وقت اور ایندھن کی کل قیمت 248.8 بلین درہم تک پہنچ جاتی۔
مثال کے طور پر ، دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے بر دبئی جانے کا سفر 20 سے 40 منٹ تک بڑھ جاتا . یکساں طور پر ، جمیراہ 3 سے دبئی مال تک کے سفر کا وقت 21 سے بڑھ کر 55 منٹ ہوتا۔
سفر التیر نے کہا ، "اگر خوانیج یا مامزار جیسے امارات کے مال تک طویل سفر کا وقت چھ گنا سے زیادہ بڑھ جاتا ، اگر ان منصوبوں پر عملدرآمد نہ ہوتا۔” یہ اس صورت حال میں ممکن ہوا جب اتھارٹی نے اس بات کا اعدادوشمار تجزیہ جاری کیا کہ امارات میں سڑکوں کے نئے منصوبوں نے ٹریفک کی حفاظت میں اضافہ اور بھیڑ اور نقصان دہ اخراج کو کم کیا ہے۔
مطر محمد الطاير المدير العام ورئيس مجلس المديرين في هيئة الطرق والمواصلات: 4.3 دراهم العائد على استثمار كل درهم في مشاريع الطرق والمواصلات. https://t.co/FPPMw6HfnJ #دبي pic.twitter.com/7eIgIL89FL
— Dubai Media Office (@DXBMediaOffice) November 14, 2020
مطر محمد الطاير المدير العام ورئيس مجلس المديرين في هيئة الطرق والمواصلات: 4.3 دراهم العائد على استثمار كل درهم في مشاريع الطرق والمواصلات. https://t.co/FPPMw6HfnJ #دبي pic.twitter.com/7eIgIL89FL
— Dubai Media Office (@DXBMediaOffice) November 14, 2020
2006 کے مقابلے میں 2019 میں ٹریفک حادثات میں 31.7 فیصد تک کمی آئی۔ جو فی 100 ہزار کی آبادی کیلئے ہے۔ ٹرانسپورٹ اور انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری پر 130 بلین درہم خرچنے نے 193.3 بیلن درہم فیول کی مد میں بچائے۔
الطائر نے بتایا کہ انتہائی خطرناک حادثات میں 10 گنا تک کی کمی آئی۔ ٹریفک سیفٹی سے متعلق دبئی میں 2007 کے بعد کی سرمایہ کاری نے قیمتی جانوں کو ضائع ہونے سے بچایا۔
اس کے علاوہ 2016 سے 2019 تک بہترین سڑکوں کی وجہ سے 661000 ٹن کاربن کے اخراج میں کمی آئی۔
آرٹی اے چیف کے مطابق عالمی سطح پر ٹریول ٹائم انڈیکس میں دبئی کی کامیابیوں کا اعتراف کیا گیا۔ اس انڈیکس میں رش اوورز میں ٹریولنگ میں لگے وقت کو ماپا جاتا ہے۔ جتنا اس ٹی ٹی آئی انڈیکس کی شرح میں باریکی ہوتی ہے اتنا اسی بہتر سمجھا جاتا ہے، دبئی نے لاس انجلس م برلن م مونٹ ریئل ، سڈنی اور روم کی طرح کی یکسان آبادی والے شہروں کے مقابلے میں بہتر پرفارم کیا۔
آل طائر کا کہنا ہے کہ انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری معیشت کو سنبھالا دیتا ہے۔
قبل ازیں آر ٹی اے نے میٹرو اور دیگر منصوبوں کا خرچ اور فائدہ سے متعلق فوائد کا جائزہ لیا۔ اس جائزہ میں یہ بات سامنے آئی کہ اخراجات کے مقابلے میں فائدہ زیادہ ہوا۔
دبئی کا ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر 18000 ہزار کلومیٹر سڑکوں ، 119 پلوں اور انڈرپاسز اور 425 کولمیٹر کے سائکلنگ ٹریکس پر مشتمل ہے۔
Source : Khaleej Times







