
خلیج اردو
10 اکتوبر 2020
دبئی: اس سال دبئی میں ایک ورکر واشنگ مشین ٹھیک کرتے ہوئے ہلاک ہوا تھا۔ اس کیس نے بہت سے لوگوں کو شش وپنج میں ڈالا۔ تاہم اس معمے کو اماراتی خاتون انجیئر نے حل کیا جو فورانزک انجینئرنگ سیکشن میں کام کرتے ہے۔
حمدہ ماجد آل علی نے کیس کو سلجھاتے ہوئے بتایا کہ ورکر کی موت کیسے واقع ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ کیس حل ہونے میں دس دن لگے۔ یہ اتنا آسان نہیں تھا۔
حمدہ کے مطابق واشن مشین کو ایک الکٹریشن نے ایسے موڈیفائی کیا تھا جس کی سمجھ صرف اسے تھی اور وہ ایک مرتبہ جب بجلی بند کرنا بھول گیا تھا اور اس نے تار کو استعال کیا جس سے اسے کرنٹ لگا اور وہ مر گیا۔
حمدہ نے دبئی پولیس کو پچھلے سال ستمبر میں بدلہ تھا۔ ان کے مطابق پولیس جوائن کرنے کے بعد یہ سب سے دلچسپ کیس تھا۔
علی کے مطابق فورانزک انجنیئرنگ سیکشن جہاں وہ کام کرتی ہے ، اس کاکام مختلف املاک یا اشخاص کو نقصان پہنچنے کی صورت میں پیچگیوں کو سلجھاتی ہے۔ جہاں باقی انجیئرنگ پتہ لگانے میں ناکام ہوجائے وہاں فورانزک انجنیئرنگ کام آتی ہے۔
امریکن یونیورسٹی شارجہ سے انجنئرنگ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد انہوں نے دبئی پولیس میں کام کیلئے درخواست دی۔ اس سے قبل اس ڈیپارٹمنٹ میں فورانزک انجنیئرنگ میں کوئی اور خاتون نہیں تھی۔
انہوں نے کہا کہ انہیں پانچ مہینوں کی ٹریننگ دی گئی جبکہ وہ اس کی تعلیم پہلے حاصل کر چکی تھی۔ اس کے بعد اپنے کام کے تجربے کی وجہ سے مختلف کیسز حل کئے جن ماہر بنا دیا۔
حمدہ علی کے مطابق فورانزک انجنئرنگ کا تعلق بنیادی طور پر چار باتوں سے ہے جس میں پلاننگ اور ڈئزائننگ کے مسائل ، مختلف امپلیمنٹیشن کے مسائل ، منفکچرنگ کے مسائل یا حفاظتی رولز اور ضوابط کی عدم پیروی شامل ہے۔
انہون نے کہا کہ اپنے ٹیم میں پہلی اماراتی خاتون کے طور پر کام کرنے پر فخر محسوس کرتی ہوں۔ میں اپنے کام سے محبت کرتی ہوں اور میرا تمام خواتین کو مشورہ ہے کہ وہ اس کام میں حصہ لیں جس میں ان کی مہارت ہو اور اس سے وہ پیار کرتی ہوں۔
علی کا کہنا تھا کہ اماراتی خواتین کو میرا مشورہ ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے خوابوں کی تعبیر کیلئے کوشش کریں۔ انہوں نے کہا کہ اب وہ ماسٹر ڈگری کرکے کچھ ایسا کرنا چاہتی ہے جس سے انسانیت کی خدمت ہو۔
Source : Khaleej Times







