(خلیج اردو ) متحدہ عرب امارات کی جانب سے آئی سی اے اپرول نظام ختم کرنے سے ہزاروں تارکین وطن کی نوکریاں ختم ہونے سے بچ گئی کیونکہ مہینوں سے اپرول نہ ملنے پر کمپنیوں کی جانب سے ان کو ڈیڈ لائن دی گئی تھی کہ اگر اس تک نہیں پہنچے تو انکو فارغ کردیا جائے گا۔
بھارت سے تعلق رکھنے والے ذلفقار عبدل اپنی کہانی سناتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ 2004 سے ابوظہبی میں نوکری کرتے ہیں اور ایک آئی ٹی انجینئر ہے ۔ وہ سالانہ چھٹی گزارنے ملک گئے تھے کہ کویڈ 19 کی وجہ سے سفر پابندی لگ گئی اور پھر متحدہ عرب امارات نے اپرول کا نظام متعارف کرالیا۔ اپرول کا نظام بہت سست روی کا شکار ریا اور تین مہینوں سے ذولفقار عبدل اپرول کے لئے اپلائی کرتا رہا مگر اسکو اپرول نہ ملی ۔ اس نے مزید کہا کہ 15 اگست تک اگر میری فلائٹ نہ ہوتی تو میری نوکری چلی جاتی کیونکہ مجھے فارغ کرنے کی اطلاع کردی گئی تھی ۔ متحدہ عرب امارات نے مشکل ترین حالات میں اپرول کا نظام ختم کرکے احسن اقدام کیا ہے جس سے میری طرح ہزاروں لوگوں کی نوکریاں ختم ہونے سے بچ گئی ہے ۔ عبدل نے کہا اس نے کویڈ 19 ٹیسٹ کرلیا ہے اور نتیجہ آنے کے بعد اگلی میسر فلائٹ میں ٹیکٹ لے کر متحدہ عرب امارات کا سفر کرنگے ۔
پاکستان سے تعلق رکھنے والے احمد رئیس نے کہا کہ وہ مارچ میں ملک گئے تھے اور تین مہینے چھٹی تھی جبکہ مجھے آئے ہوئے 5 مہینے ہوچکے ہیں ۔ اگر مجھے ٹیکٹ نہ ملتی تو میرا ویزہ ختم ہوجاتا۔اس لئے اپرول ختم ہونے سے میری نوکری بچ گئی ۔
صدیق پاٹیلات بیان کرتے ہیں کہ وہ متحدہ عرب امارات میں دوکان چلاتے ہیں اور انکا تعلق بھارت کی ریاست کریلا سے ہے ۔ انہوں نے اب سامان باندھ لیا ہے اور بہت جلد ٹیکٹ خریدنے کی پوزیشن میں ہونگے کیونکہ اپرول کا نظام ختم ہونے سے انکو واپس جانے کا یقین ہوگیا ہے ۔
فرحان کا تعلق نے بیان کیا ہے کہ وہ فروری میں ملک گیا تھا ۔فروری سے کے کر اب تک اسکا ورک پرمٹ ختم ہونے والا ہے ۔اپرول کے لئے اپلائی کرتا رہا مگر اپرول نہ نکلا اور مینے دس مرتبہ سے زیادہ مرتبہ اپلائی کیا ہے ہر بار رد کردیا گیا ہے ۔ اب اپرول ختم ہونے کے بعد وہ کافی خوش ہیں کیونکہ وہ اپنے خاندان کا واحد کفیل ہے اور واپس جانے اس کی مالی حالات بہتر ہوجائے گی ۔
شمس الدین ابوظہبی میں ایک گروسری شاپ چلاتا ہے کہتا ہے کہ میں نے کبھی اتنی لمبی چھٹی نہیں گزاری اور کام سے کبھی اتنا دور نہ رہا مگر اس مرتبہ وہ ہوا جس کی امید نہ تھی ۔ وہ کہتا ہے گھر والوں کے ساتھ وقت گزارنے کی اپنی خوشی ہوتی ہے مگر اس بار چھٹی گزارنی مشکل ہوگئی تھی کیونکہ صورتحال بہت غیر یقینی کی طرف بڑھ رہے تھے۔
Source: Khaleej Times







